اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 227
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 227 لیکن حیرت ہے کہ عربی زبان کا گہرا علم نہ رکھنے والے اور اس کی بلاغت کے اصولوں سے بیجبر، جن کو عربی بول چال کا بھی ملکہ نہیں اعتراض کرتے ہیں۔پس آج اس تعریف آیات کے معجزہ کو اگر کوئی abrupt changes کہہ دے تو یہ اس کی جہالت ہے نہ کہ قرآن کی خامی۔اسے فورا عظیم اہل زبان عرب لوگوں سے پوچھنا چاہیے اور ابن وراق کے لیے سیوطی کی گواہی کافی ہوگی۔کیوں کہ اسے بھی تسلیم ہے کہ علامہ سیوطی ایک عظیم ماہر لسانیات ہیں۔(Ibn Warraq: Why I am Not A Muslim, Prometheus Books, New York, 1995, under heading; The Koran: Sub Heading; The Word of God? Pg; 106) علامہ سیوطی ایک فخر اور تحدی سے فرماتے ہیں: لا ترى شيئا من الالفاظ افصح ولا اجزل و لا اعذب من الفاظه و لا ترى نظما احسن تاليفا و اشد تلاوة و تشاكلا من نظمه - (الاتقان في علوم القرآن الجزء الثانى النوع الرابع والستون في اعجاز القرآن) یعنی اے مخاطب تجھے قرآن کریم کے الفاظ سے زیادہ فصیح ، پر شوکت اور شیریں الفاظ کبھی کسی کلام میں نظر نہیں آئیں گے۔اس سے زیادہ منظوم اور مربوط اور شاندار ترتیب والا اور زور دار کلام تو کبھی نہ دیکھ پائے گا۔پس ابن و راق اور کسی کی نہیں سنتا تو بیشک نہ سنے ، اپنی بات کو وقعت دیتے ہوئے علامہ سیوطی کی ہی سُن لے اور ان کے علم و فضل سے ہی فائدہ اُٹھا لے۔علامہ سیوطی کے نزدیک قرآن کریم فصیح و بلیغ اور معجزانہ اسلوب بیان والا ایک ایسا مرتب اور مربوط کلام ہے جو انسانی طاقت سے بہت بالا ہے اور خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور ہر پہلو سے محفوظ ہے۔چنانچہ اپنی مشہور زمانہ تصنیف الاتقان کے شروع میں بھی اس حقیقت کا بڑی عقیدت اور فخر سے ذکر کرتے ہیں اور اس کے پہلے ہی صفحہ پر قرآن کریم کی ان خوبیوں کا ذکر کرتے ہیں۔اب امید ہے ابن وراق کسی عربی سے نابلد ، متعصب مستشرق کی تحریر کو بنیاد بنانے کی بجائے اس عظیم ماہر لسانیات اور مفسر قرآن کی بات کو اہمیت دیتے ہوئے قرآن کے معجزانہ اسلوب بیان کو سمجھ بے شک نہ پائے لیکن تسلیم ضرور کر لے گا۔اور ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ تسلیم نہ کرے؟ خود ہی تو مانتا ہے کہ سیوطی عظیم ماہر لسانیات ہیں۔علامہ سیوطی کے علاوہ اور بھی بہت علما ہیں جنکو سیوطی بھی عربی زبان کا ماہر تسلیم کرتے ہیں اور ان علما نے بھی صرف تصریف الآیات کے موضوع پر کتب لکھ کر قرآن کریم کے اس معجزہ کی وضاحت کی ہے۔مثلا فراء نے اپنی کتاب معانی القرآن میں اس معجزہ پر بحث اُٹھائی ہے اسی طرح امام لغت ابوعلی احمد بن جعفر دینوری المتوفی 289 کی کتاب ضمائر القرآن خاص طور پر اسی موضوع پر ہے۔”التفات علم بلاغت کا باقاعدہ ایک شعبہ ہے جس میں ،،عل