اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 226
الذكر المحفوظ 226 گئے جیسے سخن ور اور سخن فہم شخص کی یہ گواہی عام نظر سے دیکھی جانے والی نہیں۔کیرم آرمسٹرانگ قرآن کریم کے سحر انگیز حسن کو ان الفاظ میں بیان کرتی ہیں : اہل عرب کے لیے قرآن مجید کی عبارت واقعتا معجز نما تھی۔ان کے ادب میں اس طرح کی کوئی چیز پہلے موجود نہیں تھی۔کچھ تو فورا ہی ان آیات پر یہ یقین کرتے ہوئے ایمان لے آئے کہ اس غیر معمولی زبان میں موجود پیغام الہامی اور سچا ہی ہوسکتا ہے۔لیکن جوان تعلیمات پر ایمان نہیں لائے وہ گومگو کی کیفیت میں رہے۔انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس دعوت کا کیا جواب دیں۔( محمد ( ﷺ ) : باب دوم صفحہ 63-61 پبلشرز علی پلازہ 3 مزنگ روڈ لاہور ) سیل کی ایک گواہی گزر چکی ہے۔قرآن کریم کے حسن بیان کے معجز نما ہونے کے بارہ میں لکھتا ہے: And to this miracle did Mohammed himself chiefly appeal for the confirmation of his mission, publicly challenging the most eloquent men in Arabia, which was at that time stocked with thousands whose sole study and ambition it was to excel in elegance of Style and composition, to produce even a single chapter that might be compared with it۔I will mention but one instance out of several, to show that this book was really admired for the beauty of its composure by those who must be allowed to have been competent judges۔۔۔۔۔declaring that such words could proceed from an inspired person only۔(George Sale: The Koran; The Preliminary Discourse; Section 3; pg: 47,48) اور یہ معجز نما حقیقت محمد (ﷺ) نے خود اہل مکہ کے سامنے رکھی اور مشہور اہل زبان اور ماہرین سخن کو جو اس دور میں عرب میں ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے، ایک عام چیلنج دیا کہ اس کلام سے بڑھ کر حسین کلام بنا کر دکھا دیں اس کے کسی ایک حصہ کے بالمقابل ہی بنا دیں۔میں بیسیوں مثالوں میں سے ایک مثال کا انتخاب کرتا ہوں تا کہ یہ ثابت کرسکوں کہ یہ کتاب در حقیقت ایسے لوگوں کے سامنے پیش کی گئی تھی جو فیصلہ کرنے کی طاقت رکھتے تھے۔اس کے بعد لبید بن ربیعہ عامری کی مثال پیش کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر قرآن کریم پر ایمان لے آئے اس لیے کہ انہوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ یہ غیر معمولی کلمات ایک ملہم کو ہی عطا ہو سکتے ہیں۔