اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 225
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 225 ابن وراق اپنے اندھے پن کی وجہ سے جسے abrupt changes کہ رہا ہے وہ دراصل قرآن کریم کا ایک معجزانہ اسلوب بیان ہے جس کا حسن غیر معمولی ہے اور ایسا بھی نہیں کہ جب اعتراض ہوا ہے تو مسلمانوں کو اس کا جواب دینے کے لیے اس مسئلہ کو زیر بحث لانا پڑا ہے۔نزول قرآن کے وقت سبعہ معلقات کے اُس دور میں جب عربی فصاحت و بلاغت کی رفعتوں کو چھو رہی تھی ، قرآن کریم اپنی اس خصوصیت کو بآواز بلند بار بار تصریف آیات کی اصطلاح کے ساتھ بیان کرتا ہے اور قاری کو دعوت دیتا ہے کہ دیکھو خدا تعالیٰ کس خوبصورت انداز میں اس مضمون کو باندھ رہا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أنْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الآيتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ (الانعام: 47) دیکھو تو سہی کہ ہم کس طرح آیات کو پھر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔پھر وہ منہ پھیر لیتے ہیں۔اس آیت میں اُنظر کے الفاظ میں قاری کو یہ بتایا گیا ہے کہ تصریف الآیات کے معجزہ کو سمجھنے کے لیے غور کی ضرورت ہے۔بناغور سے دیکھے اس کو سمجھنا محال ہے اور لطف یہ ہے کہ جواب میں کوئی اہل زبان دم نہیں مارتا۔ثُمَّ هُمُ يَصْدِقُونَ کے الفاظ میں بتادیا کہ اہل زبان عرب تو جو قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے وہ اس معجزہ کا جواب نہیں دے پاتے اور اعراض کرتے ہیں گجایہ کہ کوئی ایسا جاہل ہو عربی زبان کی ابجد سے بھی واقف نہ ہواور محض ہرزہ سرائی کرتے ہوئے اور تعصب اور جہالت کی بنیاد پر لچر اور کھوکھلے اعتراضات کی پٹاری کھول کر بیٹھ جائے۔اس طرز تحریر میں ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جگہ جگہ قاری کا ذہن بار بار چوکس ہوتا ہے اور تحریر اپنے اس مخصوص انداز سے بار بار قاری کے ذہن کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر بیدار کرتی ہے۔قاری فوراً اس انوکھے انداز پر چوکنا ہو کر مضمون سے گزرتا ہے اور ہر آیت کو غور سے پڑھتا ہے اور یہ بات تو ہر شخص سمجھتا ہے کہ سوئے ہوئے دماغ اور مستعد دماغ کے مشاہدہ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔پس یہ انسانی فطرت اور نفسیات کو بتمام و کمال مد نظر رکھ کر پیش کیا جانے والا کلام ہے اور صرف اسی ہستی کی طرف سے ہوسکتا ہے جو انسانی فطرت اور نفسیات کی کننہ سے واقف ہو۔کسی انسان کی مجال نہیں کہ ان حکمتوں کو پہنچ بھی سکے جن پر پورا اترتے ہوئے یہ کلام انسان کو دیا گیا۔جرمن زبان کا مشہور انشاء پرداز گیئے جسے جرمن زبان کا شیکسپئر کہا جاتا ہے،لکھتا ہے: قرآن کریم کی عبارت پہلے پہل پڑھنے والے کو بے جوڑ اور بے ربط معلوم ہوتی ہے لیکن جو نہی کہ وہ وہ اسے مکرر پڑھتا اور اس پر زیادہ غور کرتا ہے تو وہ ہمیشہ اُسے معارف کی گہرائیوں میں لے جاتی ہے اور بہت اعلیٰ معلوم ہوتی ہے اور اپنے پڑھنے والے کو مسخر بلکہ مسحور کر دیتی ہے اور بالآخروہ پڑھنے والا اس کے محیر العقل انداز بیان اور معجزانہ حسن ونظم میں بالکل کھو کر رہ جاتا ہے۔(Adictionary of Islam by Thomas Patrich Huyheis P:526) ( ریویو آف ریجنز مئی ۱۹۳۳ صفحه ۱۲)