اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 222 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 222

الذكر المحفوظ 222 کے الفاظ یا جملوں کی تکرار ؛ اب کوئی بھی صاحب عقل و خرد کس طرح تسلیم کرلے کہ ابن وراق کی بات درست ہے اور ساری عرب قوم اور پندرہ سو سال کے طویل عرصہ میں دُنیا کے ہر کونے میں پیدا ہونے والے سخن فہم ، اہل زبان اور اہل علم غلطی خوردہ ہیں؟ اگر در حقیقت ایسا نہیں تھا تو پھر شعر و شاعری کے دلدادہ اور ہزاروں ہزار شعر یا درکھنے والے وہ لوگ اور کثرت سے شعر وسخن کی مجالس منعقد کرنے والی وہ قوم کیوں قرآن کریم کے غیر معمولی حسن کا اعتراف کرتے اور کلام بھی ایسا حسین و دلنواز کہ سامع کو مسحور کر دے۔پس یا تو قرآن کریم کے عدیم النظیر ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے حلقہ بگوش اسلام ہو جاتے ہیں یا پھر سراسیمہ ہو کر چپ سادھ لیتے ہیں یا کبھی لب کھولتے بھی ہیں تو سحر سحر پکارنے لگ جاتے ہیں۔پھر جو اہل زبان کھل کر اس کا اعتراف کرتے ہیں وہ بھی اس شان سے کرتے ہیں کہ اور کسی کلام کے حسن کو اس زور سے تسلیم نہیں کیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جس کلام کی بلاغت کو عرب کے تمام اہل زبان جن میں بڑے بڑے شاعر بھی تھے باوجود سخت مخالفت کے تسلیم کر چکے ہیں۔بلکہ بڑے بڑے معاند اس کلام کی شان عظیم سے نہایت درجہ تعجب میں پڑگئے اور اکثر ان میں سے کہ جو فصیح اور بلیغ کلام کے اسلوب کو بخوبی جاننے پہچاننے والے اور مذاق سخن سے عارف اور بانصاف تھے۔وہ طرز قر آنی کو طاقت انسانی سے باہر دیکھ کر ایک معجز عظیم یقین کر کے ایمان لے آئے جن کی شہادتیں جابجا قرآن شریف میں درج ہیں اور جو لوگ سخت کو رباطن تھے اگر چہ وہ ایمان نہ لائے۔مگر سراسیمگی اور حیرانی کی حالت میں ان کو بھی کہنا پڑا کہ یہ سحر عظیم ہے جس کا مقابلہ نہیں ہو سکتا چنانچہ ان کا یہ بھی بیان فرقان مجید کے کئی مقام میں موجود ہے۔اب اسی کلام معجزہ نظام پر ایسے لوگ اعتراض کرنے لگے جن میں سے ایک تو وہ شخص ہے جس کو دوسطر میں عربی کی بھی صحیح اور بلیغ طور پر لکھنے کا ملکہ نہیں اور اگر کسی اہل زبان سے بات چیت کرنے کا اتفاق ہو تو بجز ٹوٹے پھوٹے اور بے ربط اور غلط فقروں کے کچھ بول نہ سکے اور اگر کسی کو شک ہو تو امتحان کر کے دیکھ لے اور دوسرا وہ شخص ہے جو علم عربی سے بلکلی بے بہرہ بلکہ فارسی بھی اچھی طرح نہیں جانتا اور افسوس کہ عیسائی مقدم الذکر کو یہ بھی خبر نہیں کہ یورپ کے اہل علم کہ جو اس کے بزرگ اور پیشرو ہیں۔جن کا بورٹ صاحب وغیرہ انگریزوں نے ذکر کیا ہے وہ خود قرآن شریف کے اعلیٰ درجہ کی بلاغت کے قائل ہیں اور پھر دانا کو زیادہ تر اس بات پر غور کرنی چاہیے کہ جب ایک کتاب جو خود ایک اہل زبان پر ہی