اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 218 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 218

الذكر المحفوظ 218 قرآن کریم کی زبان میں کوئی حسن اور ترتیب نہیں تھی تو کیوں اہل زبان اسے شاعری سے تشبیہ دیتے؟ یادر ہے کہ تشبیہ تو دیتے مگر ساتھ ہی اقرار کرتے کہ اپنے حسن میں یہ کلام شعراء کے کلام سے بہت حسین ہے۔چنانچہ یہ تشبیہ صرف حسنِ کلام کے اعتراف کے طور پر ہوتی۔کیونکہ ان کے پاس یہی سب سے بڑا پیمانہ تھا۔پس اگر کلام میں خوبصورتی یہ تھی تو کیا ساری قوم کا دماغ خراب ہو گیا تھا کہ اسے اعلیٰ درجہ کا کلام ماننے لگے؟ شعر کی تعریف میں مخصوص اوزان اور بحور کی قید اور ارکان افاعیل کی ایجاد بعد کی ہے۔اساتذہ شعر وادب نے بھی اوزان و بحور کی شرط کو ہر مقام پر قابل اعتماد نہیں سمجھا۔قرآن کریم تو اس شرط کو یکسر قبول نہیں کرتا۔قرآن کا ایک اپنا زیر و بم اور آہنگ ہے۔جو بہت دل پذیر ہے قرآن کریم جہاں پر عقلی استدلال اور علمی تعلیم و تدریس بیان فرماتا ہے وہاں پر اس کا اسلوب و طرز بیان عقل و فہم کو جگانے اور منطقی استدلال کے لیے ہے اور جس مقام پر باری تعالیٰ اپنی ذات وصفات کی عظمت و جلال اور حسن و جمال بیان فرماتا ہے وہاں پر اس کا اسلوب وطرزِ بیان قلب و روح کی تسخیر اور فدائیت کے لیے ہے۔حضرت عمرؓ مکہ کے چند پڑھے لکھے افراد میں شمار ہوتے تھے اور قادر الکلام مقرر تھے اور عربی ادب پر نظر رکھنے والے انسان تھے۔مسند احمد بن حنبل کی ایک روایت ہے: حضرت عمرؓ بن خطاب کہتے ہیں کہ میں اسلام لانے سے قبل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں سے بچتے ہوئے آپ کے پیچھے پیچھے چلا جارہا تھا اور آپ میرے آگے آگے مسجد میں داخل ہوئے اور سورۃ الحاقہ کی تلاوت شروع کی۔میں پہلے تو قرآن کی تالیف سے متعجب ہوا پھر تلاوت سننے پر دل میں کہا بخدا یہ تو شاعر ہیں۔جیسا کہ قریش کہا کرتے تھے۔آپ نے یہ آیت پڑھی إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُوْلِ كَرِيمٍ وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ “اس پر میں نے دل میں کہا یہ تو صحیح ہے۔مگر کا ہن بھی تو ایسی پیشگوئیاں کرتے ہیں۔تو آپ نے اس آیت ولا بِقَوْلِ كَاهِنِ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ تَنْزِيلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَالَمِينَ۔وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الأقَاوِيلَ۔۔۔حاجزِینَ “ سے سورت کے آخر تک تلاوت کی۔حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میرے ہر سوال کے جواب پر میرے دل میں اسلام راسخ ہوتا چلا گیا۔66 (مسند احمد بن حنبل مسند عشرة المبشره اول مسند۔۔عمر بن الخطاب) حیرت کی بات ہے کہ سبعہ معلقات کے سامنے ہوتے ہوئے لبید بن ربیعہ عامری جیسا مشہور زمانہ شاعر طفیل بن دوسی جیسی ادبی شخصیت ، ضمار از دی جیسا سحر، بیان ولید بن مغیرہ جیسا عارف شعر ونحن نجاشی جیسا صاحب سطوت اور حضرت عمر جیسا ایک اہلِ علم زبان دان، جو اپنی سخن فہمی کی بنا پر فصیح و بلیغ عرب کے سفیر کا رتبہ رکھتا جب قرآن سٹنا ہے تو اس کے غیر معمولی حسن وربط اور حسن نظم کی وجہ سے اُسے انسانی طاقت سے بالا و اعلی کلام تسلیم کرتا ہے اور ابن وراق ایک