اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 217 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 217

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 217 ضمار از دی ،سارے عرب میں اپنی سحر بیانی کی وجہ سے مشہور ، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے کلام کی سحر انگیزی کا سُن کر کمال تکبر اور شیخی سے مقابلہ کرنے کے لیے روبرو آتا ہے اور چند آیات کی تلاوت سُن کر الہی کلام کے مقابل پر اپنی عاجزی اور اپنے کلام کے بے حیثیت ہونے کا اقرار کرتا ہے۔(اسد الغابہ جلد چہارم حالات ضمار از دی) جبیر بن مطعم جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کی آیات کی تلاوت کرتے ہوئے سنتے ہیں تو کیفیت ہی عجیب ہو جاتی ہے گویا دل خدائے واحد کی طرف اُڑتا چلا جارہا ہے۔( بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ الطور ) ولید بن مغیرہ نے جب قرآن کریم سُنا تو کہنے لگے کہ خدا کی قسم ! اس کلام میں عجیب کشش اور شیرینی ہے اور آپ پر رقت طاری ہوگئی۔ابو جہل کو جب معلوم ہوتا کہ تلاوت قرآن کریم سُن کر ولید مسلمان ہو رہے ہیں تو سمجھانے کے لیے آتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم ! محمد ( ﷺ ) جو کلام پڑھتے ہیں وہ شعر ہرگز نہیں کیونکہ میں شعر و سخن سے خوب واقف ہوں۔حضرت عمر کا واقعہ گزشتہ سطور میں درج کیا جاچکا ہے کہ چلے تو ہیں بانی اسلام کا قصہ ختم کرنے (نعوذ باللہ ) لیکن قرآن کریم کی تلاوت سُن کر کایا پلٹ جاتی ہے اور مسلمان ہو جاتے ہیں۔نجاشی شاہ حبشہ تلاوت قرآن کریم سُن کر ایسا متاثر ہوتا ہے کہ آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔اور تو اور درباریوں کے دل بھی گداز ہو جاتے ہیں۔مختصر یہ کہ عربی زبان کے جاننے والے، اور عام جاننے والے نہیں بلکہ اہل کمال زبان دان، با تمیز مذہب و عقیدہ اس شان سے اور اس کھلے دل کے ساتھ قرآن کریم کے حسن بیان کا اقرار کرتے ہیں کہ مسلمان ہو جاتے ہیں۔جو مسلمان نہیں ہوتے وہ بھی اس غیر معمولی حسن بیان کی تاب نہ لاکر سراسیمہ ہو جاتے ہیں اور کبھی اسے شعر وخن قرار دیتے اور کبھی سحر، کبھی کہتے کہ واضح طور پر محمد(ﷺ) کی طاقت سے بالا کلام ہے جسے کوئی کمیٹی لکھ رہی ہے اور کبھی اس کی علوشان کے اعتراف میں شعر کہنے چھوڑ دیتے۔پس آج اگر کوئی اعتراض کرے اور ساتھ ہی یہ اقرار بھی کرے کہ وہ عربی زبان سے واقف نہیں ہے تو لاز م یہ ماننا پڑے گا کہ وہ تعصب کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے یا جہالت کی وادیوں میں سرگرداں ہے یا پھر کسی کے خون سے اپنے گناہ بخشوانے ، یا کسی انسان یا جانور یا پھر کو خدا ماننے جیسے غیر معقول عقائد کی وجہ سے اس کا دماغ چل گیا ہے۔قرآن کے حسنِ بیان کے غیر معمولی ہونے کا اہل کمال عربی دانوں نے ایسا اقرار کیا جیسا تاریخ میں اور کسی ادب پارے کو نصیب نہ ہوا پھر کیسے ممکن ہے ایک بلند ادبی مقام کا حامل اور صدیوں سے اُفق ادب پر جگمگانے والا لبید جیسا ستارہ تو قرآن کریم کے حسن اور ترتیب کا اقرار کرے اور آج ایک عربی سے نابلد اٹھ کر یہ اعتراض کر دے کہ قرآن کریم حسنِ کلام سے عاری اور غیر مربوط ہے اور اس کے اعتراض میں وزن ہو؟ قرآن کریم کے نزول کے دور میں عربی شاعری حسنِ کلام پر کھنے کی سب سے بڑی کسوٹی تھی۔اگر