اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 207 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 207

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 207 نزول پہلے مکمل ہوا وہ پہلی ہے۔ہاں اس حد تک یہ بات درست ہے کہ بعض سورتیں بعض دوسری سورتوں سے پہلے نازل ہونا شروع ہوئیں اور مکمل بھی پہلے ہوئیں۔لیکن قرآن کریم میں وہ بعد میں نازل ہونے والی سورتوں کے بعد درج ہیں لیکن یہ جائے اعتراض نہیں کیونکہ خود خدا تعالیٰ ، جس نے کہ قرآن نازل کیا ہے وہی اس کی دائمی ترتیب لگانے والا ہے۔قرآن کریم کی ترتیب نزولی کے بدلنے میں حکمت سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسی کیا ضرورت پیش آگئی تھی کہ قرآن کریم کی ترتیب نزولی کو بدلا جائے اور اس بدلنے کا فائدہ کیا ہوا؟ یہ ایک معقول سوال لگتا ہے کہ مگر شائد اس سوال کی معقولیت کو محسوس کرتے ہوئے ابن وراق نے یہ سوال اُٹھانا پسند نہیں کیا اور یہ حکمت جاننے کی کوشش نہیں کی۔لیکن قرآن کریم کے اسلوب بیان اور اندرونی ربط کے بارہ میں اندازہ کرنے کے لیے اس حکمت کا بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ترتیب کے بارہ میں روایات اور تحقیقات پر نظر کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر آیت اور سورۃ کو اس کے نزول کے ساتھ ہی اس کے مقام پر لکھوا دیتے تھے اور یہ مقام وحی سے متعین ہوتا تھا اس لیے اس کا کوئی ایسا قاعدہ نہیں تھا کہ جو آیت آج نازل ہورہی ہے وہ کل والی آیت کے بعد رکھی جائے۔یہ بھی نہیں تھا کہ نفسِ مضمون کے تعین سے کسی دوسری ہم مضمون آیت سے پہلے یا بعد میں رکھی جائے۔یہ بھی نہیں تھا کہ نئی نازل ہونے والی آیت اپنی لمبائی وغیرہ کے لحاظ سے جگہ پاتی ہو۔لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا با قاعدہ ایک ترتیب سے رکھنا بتاتا ہے کہ ہر آیت کا ایک الہامی ربط اور مقام ہوتا تھا جس کی رو سے وہ آیت بالکل اسی جگہ چسپاں ہوتی تھی۔ممکن ہے سطحی نظر سے دیکھنے سے وہ ربط اور تسلسل نظر نہ آتا ہومگر جس طرح آنحضور صلی الہ علیہ والہ وسلم آیات کو ان کی جگہوں پر رکھواتے تھے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کی کوئی نہ کوئی ترتیب ضرور تھی وہ ترتیب کیا تھی؟ اس ضمن میں بحث آگے آئے گی۔سر دست ترتیب نزول کو موجودہ ترتیب سے بدلنے کی حکمت پر بات ہو رہی ہے۔قرآن کریم کے نزول کے ذریعہ دنیا کو ایک بالکل نیا اور عالمی نظام دیا جار ہا تھا۔چنانچہ اول المخاطب لوگوں کے حالات کے مطابق اور ان کے روحانی، اخلاقی ، معاشرتی مسائل اور پیش آمدہ واقعات اور ضرورت زمانہ کی مناسبت سے وحی قرآن کا نزول ہوتا رہا۔ایک دین کو بالکل آغاز میں متعارف کرانے کے لیے جن امور کی ضرورت پہلے ہو سکتی ہے وہ پہلے نازل کیے گئے اور جن کی ضرورت نسبتا بعد میں ہوتی ہے وہ بعد میں نازل کیے گئے۔لیکن دائمی ترتیب میں اس نزولی ترتیب کو بدل دیا گیا کیونکہ قرآن کریم کو مکمل کتابی صورت میں پیش کرنے کے لیے بعد میں آنے والوں کے مختلف حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف ترتیب کی ضرورت تھی۔چنانچہ نزول