اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 206
الذكر المحفوظ 206 بیان ہو چکا۔(۳) تیسرا جواب یہ ہے کہ سب سورتوں کے مضامین میں جو ترتیب موجود ہے اگر صرف لمبائی اور اختصار پر انہیں آگے پیچھے رکھا گیا تھا تو پھر سورتوں کے مضامین میں جوڑ اور اتصال کیوں کر پیدا ہو گیا۔؟ ( تفسیر کبیر جلد 1 صفحہ 52 تفسیر سورۃ الفاتحہ ) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اس بارہ میں فرماتے ہیں: اکثر یورپین محققین یہ کہا کرتے ہیں کہ قرآنی سورتوں کو ان کی لمبائی کے لحاظ سے ترتیب دیا گیا ہے۔مگر یہ ایک سراسر بے بنیاد خیال ہے کیونکہ اول تو ہم اوپر ثابت کر چکے ہیں کہ جمع و ترتیب کا کام خود آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خدائی تفہیم کے مطابق سرانجام دیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم جیسے انسان کی طرف اس قسم کا عبث فعل کبھی منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ایسا فعل وہی شخص کر سکتا ہے جو عقل و خرد سے بالکل عاری ہو۔نزول کی ترتیب کو محض اس وجہ سے ترک کرنا کہ قرآنی سورتیں لمبے اور چھوٹے ہونے کے لحاظ سے ترتیب دی جاسکیں جس میں کوئی بھی علمی فائدہ متصور نہیں ہے، ایک ایسا فعل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات تو در کنار ایک معمولی عقل کا آدمی بھی اس کا مرتکب نہیں ہو سکتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی ذات تو اس سے بہت ہی بالا اور ارفع ہے۔دوسرے سورتوں کا وجود ہی جس کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہوا ہے کسی ترتیب کا نتیجہ ہے۔کیونکہ قرآن شریف سورتوں کی صورت میں نازل نہیں ہوا بلکہ آیات کی صورت میں بہت آہستہ آہستہ نازل ہوا ہے اور سورتیں آیات کے جمع ہونے سے عالم وجود میں آئی ہیں۔علاوہ ازیں یہ بات عملاً بھی بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے کہ قرآن میں سورتوں کے لمبا چھوٹا ہونے کی ترتیب مد نظر رکھی گئی ہے اور قرآنی سورتوں کی آیات کی تعداد کا ایک سرسری مطالعہ بھی اس کی تردید کے لیے کافی ہے کیونکہ بیسیوں مثالیں ایسی ہیں کہ بعض لبی سورتیں ہیں جو پیچھے رکھی گئی ہیں اور بعض چھوٹی سورتیں ہیں جو پہلے آگئی ہیں اور نہ معلوم مغربی محققین اس معاملہ میں اس قدر کوتاہ نظری اور فاش غلطی کے مرتکب کس طرح ہوئے ہیں۔( سيرة خاتم النبین حصہ دوم زیر عنوان ترتیب قرآن صفحه 535) اس اعتراض کے پیدا ہونے کی ایک وجہ قرآن مجید کے نزول کے حالات سے ناواقفیت بھی ہے۔قرآن مجید کے نزول کے دور میں تو کئی کئی سورتیں اکٹھی نازل ہوتی تھیں۔ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ ایک سورۃ پہلے نازل ہونا شروع ہوئی لیکن ایک دوسری سورۃ جو بعد میں نازل ہونا شروع ہوئی اس سے پہلے مکمل ہو گئی۔پس کیسے فیصلہ کیا جائے گا کہ کون سی سورۃ پہلی ہے اور کون سی بعد کی۔ایک سورۃ جو پہلے نازل ہونا شروع ہوئی جو پہلی ہے یا جس کا