اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 200 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 200

الذكر المحفوظ 200 ۲۔اس مجموعہ کو ایک جلد میں جمع نہیں کیا گیا تھا چنانچہ اس میں سورتوں کی کوئی ترتیب نہیں تھی۔مگر مؤخر الذکر بات غلط ہے اور ایک غلط نہی کے نتیجہ میں راہ پاگئی ہے۔اگر دیکھا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان کے عہد خلافت میں قرآن کریم کی ترتیب کا مسئلہ تھا ہی نہیں بلکہ اصل مسئلہ اختلاف قراءت کا خاتمہ تھا اور یہ ہم گزشتہ باب میں ثابت کر آئے ہیں۔صاحب البرهان، علامہ الزرکشی مذکورہ بالا روایات درج کرنے کے بعد ان سے اختلاف کرتے ہوئے اپنا مسلک یوں بیان کرتے ہیں:۔یہ بات غلط ہے کہ قرآن مجید کو ایک جلد میں سب سے پہلے حضرت عثمان نے جمع کیا بلکہ اس کام کا سہرا بھی حضرت ابوبکر کے سر ہے۔“ (البرهان في علوم القرآن ، الجزء الاول صفحه 235 نسخ القرآن في المصاحف) پھر اپنی تائید میں امام بیہقی کا یہ قول پیش کرتے ہیں: ہم زید بن ثابت سے یہ روایت کر آئے ہیں کہ قرآن مجید کی ترتیب زمانہ نبوی میں ہوئی اور اسے ایک جلد میں جمع کرنے کا کام حضرت ابوبکرؓ کے عہد میں ہوا اور حضرت عثمان کے وقت میں اسے متعدد نسخوں میں نقل کیا گیا۔“ (البرهان في علوم القرآن ، الجزء الاول صفحه 235 ” نسخ القرآن في المصاحف) پھر ایک اور جگہ اپنا مؤقف ان الفاظ میں لکھتے ہیں: صحابہ کا قرآن کریم ایک جگہ جمع کرنے کا سبب وہی ہے جو حدیث میں وارد ہوا ہے کہ قرآن کھجور کی ٹہنی کے ڈنٹھلوں ، شانے کی ہڈیوں، پتھر کی باریک سلوں اور لوگوں کے سینوں میں منتشر تھا۔پھر حفاظ کرام کے کثرت سے وصال پا جانے کی وجہ سے یہ خوف پیدا ہو گیا تھا کہ مبادا قرآن کا ایک حصہ ضائع ہو جائے۔چنانچہ انہوں نے قرآن کو اسی ترتیب اور طریق سے جمع کیا اور لکھا جیسا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا تھا اور اس میں انہوں نے اپنی طرف سے کوئی تقدیم وتا خیر نہیں کی۔(البرهان في علوم القرآن جزء اول صفحه 236 ” نسخ القرآن في المصاحف ) پھر ” البرھان میں حضرت علیؓ کا یہ قول درج ہے۔رَحِمَهُ اللهُ أَبَا بَكْر هُوَ اَوَّلُ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ بَيْنَ لَوْحَيْنِ * 66 (بدرالدين الزركشی البرهان في علوم القرآن ، الجزء الاول صفحه 235) یعنی اللہ تعالیٰ ابوبکر" پر رحم کرے کہ آپ وہ ہیں جنہوں نے قرآن کو ایک جلد کی