اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 178 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 178

الذكر المحفوظ 178 جمع کا کام بھی یقینا وحی الہی کے مطابق اور خدا تعالیٰ کی دائمی حکمتوں اور منشا کے تحت ہوا ہے اور ہر وحی کے ساتھ جبریل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس بات سے بھی آگاہ فرماتے تھے کہ اس حصہ وحی کو کس سورت میں کس جگہ لکھا جائے اور آپ اسی ترتیب کے مطابق اپنے سامنے کا تہوں سے لکھواتے تھے۔چنانچہ روایت ہے کہ: كان النبي ﷺ لما تنزل الأيات فيدعو بعض من كان يكتب له و يقول له ضع هذه الآية في سورة التي يذكر فيها كذا و كذا (سنن ابی داؤد کتاب الصلواة باب من جهر بها) یعنی جب کوئی آیات نازل ہوتیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان ( کاتبین وحی ) میں سے کسی کو بلا بھیجتے جو آپ کے زیر نگرانی وحی الہی تحریر کیا کرتے تھے اور انہیں ہدایات دیتے کہ اس آیت کو فلاں سورۃ میں فلاں جگہ رکھ دو۔اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس نے حضرت عثمان کا یہ قول روایت کیا ہے: بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر بیک وقت مختلف سورتوں کے حصے نازل ہوتے تھے۔جب بھی کوئی وحی قرآن نازل ہوتی تو آپ کسی لکھنے والے کو جو آپ کے سامنے بیٹھ کر لکھتا تھا بلا کر فرماتے کہ اس حصہ کو فلاں سورت میں اس جگہ شامل کر کے لکھو جہاں فلاں فلاں مضمون بیان ہوا ہے اور اس آیت کو فلاں آیت کے ساتھ لکھو۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 75 حديث عثمان بن عفان) پس ترتیب آیات کے بارہ میں مسلمانوں کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ آیات کی موجودہ ترتیب خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق آیات کو مختلف سورتوں میں ان کی جگہوں پر رکھتے تھے۔مستشرقین یہ تو نہیں مانتے کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے اس لیے ترتیب آیات کے بارہ میں یہ نہیں کہتے کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ ہے۔ان کا موقف یہ ہے کہ آیات کی یہ ترتیب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لگائی ہوئی ہے۔ترتیب سور اکثر مسلمان علما یہ یقین رکھتے ہیں کہ سورتوں کی ترتیب بھی توقیفی یعنی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ ہے۔مگر بعض کے نزدیک اس بات کے کافی شواہد نہیں ملتے کہ تمام سورتوں کی ترتیب خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ ہے بلکہ ان کا خیال ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بعض سورتوں کی ترتیب خود مقرر فرمائی تھی اور باقی سورتوں کو امت کی صوابدید پر چھوڑا تھا کہ جیسے چاہیں مرتب کر دیں۔مستشرقین بھی اکثر یہی موقف اختیار کرتے ہیں کہ سورتوں کی