اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 169
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 169 تھا جس کے عاشق اللہ ہونے کی گواہی کفار قریش کے منہ سے بھی بے ساختہ نکل گئی اور روز کی مناجاتوں اور پیار کے سجدوں کو دیکھ کر اور فنا فی الا طاعت کی حالت اور کمال محبت اور دلدادگی کے منہ پر روشن نشانیاں اور اس پاک منہ پر نور الہی برستا مشاہدہ کر کے کہتے تھے عشق محمد علی ربہ کہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے رب پر عاشق ہو گیا ہے اور پھر صحابہ نے صرف وہ صدق اور محبت اور اخلاص ہی نہیں دیکھا بلکہ اس پیار کے مقابل پر جو ہمارے سید محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دل سے ایک دریا کی طرح جوش مارتا تھا خدا تعالیٰ کے پیار کو بھی تائیدات خارق عادت کے رنگ میں مشاہدہ کیا تب ان کو پتہ لگ گیا کہ خدا ہے اور ان کے دل بول اٹھے کہ وہ خدا اس مرد کے ساتھ ہے۔انہوں نے اس قدر عجائبات الہیہ دیکھے اور اس قدر نشان آسمانی مشاہدہ کئے کہ ان کو کچھ بھی اس بات میں شک نہ رہا کہ فی الحقیقت ایک اعلیٰ ذات موجود ہے جس کا نام خدا ہے اور جس کے قبضہ قدرت میں ہر یک امر ہے اور جس کے آگے کوئی بات بھی انہونی نہیں اسی وجہ سے انہوں نے وہ کام صدق وصفا کے دکھلائے اور وہ جانفشانیاں کیں کہ انسان کبھی کر نہیں سکتا۔جب تک اس کے تمام شک وشبہ دور نہ ہو جائیں اور انہوں نے بچشم خود دیکھ لیا کہ وہ ذات پاک اسی میں راضی ہے کہ انسان اسلام میں داخل ہو اور اس کے رسول کریم کی بدل و جان متابعت اختیار کرے تب اس حق الیقین کے بعد جو کچھ انہوں نے متابعت دکھلائی اور جو کچھ انہوں نے متابعت کے جوش سے کام کئے اور جس طرح پر اپنی جانوں کو اپنے برگزیدہ ہادی کے آگے پھینک دیا یہ وہ باتیں ہیں کہ کبھی ممکن ہی نہیں کہ انسان کو حاصل ہوسکیں جب تک کہ وہی بہار اس کی نظر کے سامنے نہ ہو جو صحابہ پر آئی تھی۔(روحانی خزائن جلد ششم شہادۃ القرآن صفحہ 347,348) پس ثابت ہوا کہ آپ کا اور آپ کے جانثاروں کا ایمان اس بات کا واضح اور بین ثبوت ہے کہ قرآن کریم محفوظ ترین ہاتھوں سے ہوتا ہوا ہم تک پہنچا ہے۔آپ کی سیرت کے اور بھی بہت سے پہلو اس بات کے ثبوت میں پیش کیے جاسکتے ہیں کہ قرآن میں کوئی تبدیلی آپ کی ذات سے بعید از قیاس تھی۔مگر اس لحاظ سے مطالعہ مضمون کو بہت ہی طویل کر دے گا۔ساری زندگی ایک روشن مینار ہے اور ہر قسم کے شکوک کو رفع کرتی ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت کے پہلوؤں کو دیکھ کرکوئی دیانت دار شخص ، دوست یا مخالف، یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ آپ جیسے عالی شان اسوہ کا حامل شخص بددیانتی کا بھی مرتکب ہوسکتا ہے۔جس نے بھی آپ کی زندگی کا بلا تعصب، دیانت داری سے مطالعہ کیا وہ آپ کا عاشق بن گیا اور اس ایمان پر قائم ہو گیا کہ آپ بلاشبہ بے عیب