اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 168
الذكر المحفوظ 168 يقول "يَأَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ۔۔۔الآية ( بخاری کتاب تفسیر القرآن باب يا أيها الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك) یعنی اگر کوئی تم سے کہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی الہی میں سے کوئی آیت چھپا کر رکھی تھی تو وہ جھوٹا ہے۔کیونکہ اللہ تعالی صاف طور پر فرماتا ہے يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ۔۔۔الاية “ (المائده: 68) یعنی اے رسول جو تیرے رب نے تجھ پر نازل کیا ہے اسے آگے پہنچا دے۔اس روایت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی تھیں کہ ناممکن ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم خدا تعالیٰ کی حکم عدولی کریں اور اس کی طرف سے آنے والی کوئی وحی بنی نوع انسان کے سپرد نہ کریں۔پھر حجتہ الوداع کے موقع پر آپ نے تمام موجود صحابہ سے اس امر کی گواہی لی کہ آپ نے الہی امانت کو ان تک کامل اور مکمل طور پر پہنچا دیا ہے۔دُنیا کی کوئی بھی عدالت چند گواہوں پر ہی فیصلہ کر دیتی ہے۔پس ان لاکھوں گواہوں کی گواہی کیوں کر جھٹلا ئی جاسکتی ہے؟ قدم قدم پر ایسی گواہیاں ہیں کہ باقی تاریخ میں کسی بھی بڑے سے بڑے انسان کو اس شان کی ایک گواہی بھی نصیب نہیں ہوئی جو مثال میں ان گواہیوں سے میل کھائے۔پس آپ کے قریبی عزیز اور اقربا جنہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر آپ کے اسوہ کا گہری نظر سے مشاہدہ کیا تھا، آپ کے بارہ میں کامل طور پر اس ایمان پر قائم تھے کہ آپ بلاشبہ ایک راست باز انسان تھے اور خدا کے سچے نبی تھے جس نے خدا کے پیغام کو بنی نوع تک پہنچایا اور اس کی حفاظت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔پھر صحابہ اپنے آقا کے عشق میں فنا ہونے کے باوجود آپ کے کلام اور کلام الہی میں واضح فرق کرتے تھے۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا عاشق رسول جب کلام الہی کی حفاظت کا سوال آتا ہے تو اپنے محبوب آقا کے اقوال جلانے کا حکم جاری کر دیتا ہے۔یہ واقعہ بھی دوسرے واقعات کی طرح صحابہ کے ایمان کامل کا کیسا اعلیٰ اور لطیف ثبوت ہے۔صحابہ کے عدیم النظیر ایمان کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: صاف ظاہر ہے کہ جو کچھ صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایمانی صدق دکھلایا اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں اور اپنی آبروؤں کو اسلام کی راہوں میں نہایت اخلاص سے قربان کیا اس کا نمونہ اور صدیوں میں تو کجا خود دوسری صدی کے لوگوں یعنی تابعین میں بھی نہیں پایا گیا اس کی کیا وجہ تھی ؟ یہی تو تھی کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس مرد صادق کا منہ دیکھا