اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 167 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 167

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 167 سامنے اس کے کسی ایک بھی جانثار کو بھی کوئی ادنی سی تکلیف پہنچائی جائے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ برداشت کر لے؟ ایسے جانثار جو مشکلات اور مصائب کی آندھیوں میں بھی یہ نعرے بلند کرتے ہوئے آگے بڑھا کرتے تھے کہ: ” (اے خدا کے رسول ) ہم آپ سے وہ کچھ نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا جاتو اور تیرا رب جا کر ان دشمنوں سے جنگ کرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی۔آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی اور خدا کی قسم ! دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک ہماری لاشوں کو نہ روند لے۔“ (بخاری کتاب المغازى باب اذ تستغيثون ربكم فاستجاب لهم) جو یہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں یہ بھی گوارا نہیں کہ ہم اپنے گھروں میں آرام سے ہوں اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو راہ چلتے کوئی کانٹا بھی چھ جائے۔اگر ردو بدل کرنا ہوتا تو کیا ممکن نہیں تھا کہ ان جانثاروں کی تکالیف دیکھ کر آپ ان کی مشکلات کم کرنے کے لیے کوئی تبدیلی کر لیتے۔Stanley Lane-Poole لکھتا ہے اور کیا خوب لکھتا ہے: "He was the most faithful protector of those he protected, (Stanley Lane-Poole: The Speeches and Table-Talk of the Prophet Mohammad, Introduction, pp۔29۔) یعنی آپ محافظوں میں سب سے زیادہ ایمان دار محافظ تھے۔پس کیوں نہ قرآن کریم میں ادنیٰ سے تبدیلی کر کے اپنے جانثاروں کو محفوظ کر لیا؟ اسی لیے نا کہ یہ معتبر محافظ ہی تو قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری نبھارہا تھا۔کوئی تبدیلی ممکن ہی کس طرح تھی ؟ پس صرف صداقت اور امانت ہی دو ایسے اخلاق نہیں کہ جن کی رُو سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر یقین کامل پیدا ہوتا ہے بلکہ من حیث الجمیع آپ انتہائی اعلیٰ اخلاق کے حامل ایک انسان کامل تھے۔زندگی کے ہر شعبہ میں اور اخلاقیات کے ہر میدان میں اتنا بلند اور عظیم نمونہ دکھایا کہ آپ کی سیرت کا مطالعہ کرنے والے کے دل میں یہ بات اپنی میخ کی طرح کامل طور پر گڑ جاتی ہے کہ اس شان کا انسان جھوٹا ہو ہی نہیں سکتا۔پہلے بھی ذکر گز را که بیوی تو جلوت و خلوت کی ساتھی اور انسان کی تمام خامیوں اور خوبیوں سے واقف ہوتی ہے۔چنانچہ آپ کے اعلیٰ اخلاق کے بارہ میں ایک بیوی حضرت خدیجہ جو کہ غم والم کے دور کی ساتھی تھیں ، کی گواہی گزر چکی ہے۔ان کی گواہی کے بعد اب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گواہی بھی دیکھیے جو کہ فاتحانہ زندگی میں آپ کے ساتھ رہیں۔آپ فرماتی ہیں: من حدثك ان محمدا كتم شيئا مما انزل الله عليه فقد كذب والله