اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 163 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 163

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 163 الكَعْبَةِ کا نعرہ لگاتے ہوئے دُنیا چھوڑتا۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوة الرجيع۔۔۔) اُن کے بارہ میں خدا تعالیٰ نے یہ گواہی دی تھی کہ مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَّنْتَظِر (الاحزاب:24) یعنی اُن میں سے کچھ اپنے عہد پورے کر چکے ہیں اور کچھ منتظر ہیں کہ جانثاری کا موقع ملے اور عہد پورے کریں۔کیونکہ انہیں یقین تھا کہ ان سے کیے جانے والے تمام وعدے الہی ہیں اور ان میں کوئی بھی بشری دخل نہیں ہے۔پس کس طرح ممکن ہے کہ قرآن کریم کی حفاظت پر حرف آنے کے ادنیٰ سے شک پر بھی وہ خاموش رہتے ؟ وہ کہ جو مرتے وقت یہ شعر پڑھا کرتے کہ: فلست ابالی حین اقتل مسلما علی ای جـنـب كـان لله مصرعی جبکہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل ہورہا ہوں تو مجھے پروا نہیں کہ خدا کی راہ میں، میں کس پہلو پر گرتا ہوں و ذلك فى ذات الاله و ان يشاء يبارك على اوصال شلو ممزع اور یہ شہادت تو باری تعالیٰ کی خاطر ہی ہے پس اگر وہ چاہے تو میں کٹ کر جس پہلو پر بھی گروں ہی میں وہ برکت ڈال دے گا (بخاری کتاب المغازي فضل من شهد بدرا) یہ وہی جانثار تھے کہ دورانِ قید جب انہیں یہ کہا گیا کہ کیا تمہارا دل نہیں کرتا کہ آج محمد (ﷺ) تمہاری جگہ ہوتے اور تم چھین سے اپنے گھر میں بیٹھے ہوتے تو دشمنوں کے شکنجوں میں پھنسے ہوئے وہ عاشقانِ جانثار کس طرح تڑپ کر کہتے کہ ہمیں تو یہ بھی منظور نہیں کہ ہم اپنے گھروں میں آرام سے ہوں اور رسولِ خداصلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں راہ چلتے کوئی کانٹا بھی کچھ جائے۔(بخاری کتاب المغازی فضل من شهد بدرا) ایک طرف دشمن کی قید میں ایمان کا یہ نمونہ ہے کہ اپنی جان کے بدلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں کانٹا چبھنا بھی گوارا نہیں ہے اور دوسری طرف کیا نظارہ ہے، ذرا نظر دوڑائیں! بائبل میں یسوع کے اس حواری کا ذکر ملے گا جس نے اپنی جان بچانے کی خاطر یسوع کو دشمنوں کے نرغہ میں بے بس اور لاچار، زخموں کی تکالیف سے بے حال آہ و بکا کرتے دیکھا تو بھی اس کا ایمان جوش میں نہ آیا اور اس مشکل وقت میں بھی اس نے مسیح سے لا تعلقی کا اظہار کر دیا۔ان خاص الخاص حواریوں سے کہیں بڑھ کر وہ عورت، مریم مگدر لینی نکلی جو یسوع سے تعلق کا دم بھرتی رہی اور اس تعلق کی خاطر زمانہ کی پرواہ نہیں کی جو آج تک اس تعلق پر حیران ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا بستر مرگ پر بے قراری سے اس حسرت کا اظہار کرنا کہ میں تو جب بھی جنگ کے میدان میں اترا شوق شہادت لے کر اترا لیکن یہ خواہش حسرت ہی رہی۔میرے جسم پر کوئی حصہ ایسا نہیں جس نے راہ اسلام میں زخم نہ کھایا ہو لیکن آج میں بے بس بستر مرگ پر پڑا جان دے رہا ہوں۔ذرا تاریخ کے اوراق چھانی اور دیکھیے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیروکاروں کے علاوہ اور کس نبی کے پیروکاروں کی طرف سے خدا