اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 162 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 162

الذكر المحفوظ 162 وغیرہ۔۔۔کیا ہم یہ تصور کر سکتے ہیں کہ اس کا خدائی مشن اس کے ذہن کی محض اختراع تھی ؟ اور کیا وہ جھوٹ کو جانتے بوجھتے نبھاتا رہا؟ نہیں! ہرگز نہیں! محمد (ﷺ) کو در حقیقت بچے مذہبی ادراکات اور روحانی احساسات حاصل تھے جن کے سبب انہوں نے اپنے مشن کو انتہائی مستقل مزاجی ، پامردی و استقلال سے آگے بڑھایا اور نہ اس کے جھٹلائے جانے کی پروا کی اور نہ اس کی راہ میں مصائب و مشکلات کی۔یہ سچائی ، یہ حق کی معرفت انہیں شروع سے آخر تک حاصل رہی یعنی حضرت خدیجہ کے سامنے پہلی وحی کے نزول سے لے کر حضرت عائشہ کی باہوں میں آخری سانس لینے تک۔(John Davenport: An Apology for Mohammed and the Koran, London: 1869۔17۔آنحضور ﷺ کی صداقت کا ثبوت صحابہ کا غیر متزلزل ایمان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر غیر متزلزل ، پختہ اور روز افزوں ترقی کرتا ہوا ایمان بھی اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ قرآن کریم بلاتحریف و تبدل اُن تک پہنچ رہا ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا ایک ایک لمحہ اُن کے سامنے تھا اور وہ کامل طور پر اس ایمان پر قائم تھے کہ آپ جو کلام الہی ہم تک پہنچا رہے ہیں وہ حرف بحرف وحی الہی ہے اور ہر قسم کے رد و بدل سے پاک ہے۔ان کا ایمان اس بات کا گواہ ہے کہ وہ دل کی گہرائیوں سے مانتے تھے کہ یہ سلسلہ خدائی ہے اور پوری دیانت داری اور حفاظت کے ساتھ ان تک پہنچ رہا ہے تبھی تو ایمان کے ایسے اعلیٰ نظارے دکھائے جو عدیم النظیر ہیں۔چنانچہ بے شمار واقعات ملتے ہیں جن سے واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن کریم کے معاملے میں صحابہ بہت زیادہ حساس تھے۔قرآنِ کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایمان کا دارو مدار ہستی باری تعالی، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کلام الہی کی سچائی پر تھا۔وہ اپنے سر دھڑ کی بازی اسی ایمان کی حرارت کی وجہ سے لگاتے تھے۔ماؤں کے دلارے اور باپوں کے سہارے، بہنوں کے پیارے اور بیویوں کے سہاگ اسی ایمان کی پختگی کی وجہ سے خدا کی راہ میں قربان ہونے کو مچل رہے تھے۔کیسے ممکن ہے کہ اتنے کامل ایمان والے تحریف کی کسی ادنیٰ سی کوشش پر بھی خاموش رہتے۔انہوں نے خدا تعالیٰ کے حضور مجسم قرآن صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کیسے ہوئے وعدے سچ کر دکھائے تھے کہ ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی، دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی اور کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک کہ ہماری لاشوں کو نہ روند ڈالے۔(بخاری کتاب المغازی باب اذ تستغيثون ربكم۔۔۔۔) اور اس شان سے یہ وعدے ایفا کیسے کہ جب بھی کوئی اس الہی پیغام کی حفاظت میں جان کا نذرانہ پیش کرتا تو فُرتُ