اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 161
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 161 قرآن کریم کے متن کو اپنے اقوال سے بالا اور ممتاز رکھنے کی اس کوشش اور طرز عمل کے مشاہدہ سے غیر مسلم مغربی محققین بھی چونک اٹھے ہیں: Dr۔Maurice Bucaille لکھتے ہیں: Finally, It must be pointed out that Muhammad's own attitude was quite different towards the Qur`an from what it was towards his personal sayings۔The Qur`an was proclaimed by him to be a divine Revelation۔Over a period of twenty years, the Prophet classified its sections with the greatest of care, as we have seen۔The Qur`an represented what had to be written down during his own lifetime and learned by heart to become part of the liturgy of prayers۔The hadiths are said, in principle, to provide an account of his deeds and personal reflections, but he left it to others to find an example in them for their own behaviour and to make them public however they liked۔(The bible The Quran and Science (translation from French by Alastair D۔Pannel and The Ahthor)Under Heading Conclusions Pg 250-251) بالآخر یہ واضح رہے کہ محمد (ﷺ) کا قرآن کریم کے بارہ میں رویہ اس رویہ سے بالکل مختلف تھا جو کہ آپ کا اپنے فرمودات کے بارہ میں تھا۔قرآن کریم کے بارہ میں آپ کا دعوی تھا کہ یہ وحی الہی ہے۔میں سال سے زائد عرصہ میں نبی (ع) نے بذات خود حد درجہ احتیاط کے ساتھ اسے متعلقہ حصوں میں تقسیم کیا تھا جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں۔قرآن وہ چیز ہے جو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی میں بطور خاص لکھا جاتا اور حفظ کر لیا جاتا تھا تا کہ فرض نمازوں میں اس کی تلاوت کی جاسکے۔جبکہ احادیث کے بارہ میں عمومی خیال یہ ہے کہ یہ آپ کے روز مرہ افعال اور معمولات کا احاطہ کرتی ہیں۔جن سے راہنمائی لینا اور لوگوں میں ان کی اشاعت کرنا آپ نے دوسروں پر چھوڑ رکھا تھا کہ جیسے چاہے وہ کریں۔اس موضوع پر جان ڈیون پورٹ کی گواہی درج کر کے اگلے موضوع کی طرف بڑھتے ہیں۔لکھتے ہیں: ممکن ہے یہ سوچا جائے کہ وہ آدمی جس نے اتنی بہت سی اور تادیر قائم رہنے والی اصلاحات کیں، انواع واقسام کی بُت پرستی کے بدلے، جس میں لوگ مدتوں سے مبتلا تھے، ایک خدا کی عبادت کا داعی بنا۔جس نے دختر گشی کی رسم فتیح کومٹایا۔شراب اور دوسری نشہ آور اشیاء کوحرام ٹھہرایا۔جوئے کی ممانعت، نسبتاً ایک دائرہ میں رہتے ہوئے تعدد ازواج کو محدود کیا، وغیرہ