اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 160 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 160

الذكر المحفوظ 160 ضبط تحریر میں آنے سے رہ جاتا۔پھر اس پہلو سے بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان کامل کا مشاہدہ کیجیے کہ قرآن کریم کے بارہ میں آپ کا رو یہ اس رویہ سے بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے جو آپ کا اپنے اقوال کے بارہ میں تھا۔جہاں تک اپنے کلام کا تعلق ہے تو اگر کسی معاملہ کا آپ کو علم نہ ہوتا تو کھل کر اپنے اصحاب سے کہ دیتے اور اگر بشری کمزوری کی وجہ سے آپ سے کبھی دُنیاوی اعتبار سے کسی معاملے میں غلطی ہوئی تو آپ نے کھل کر اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور فرمایا کرتے انتم اعلم بامور دنياكم (بخاری کتاب التفسير باب هل كنت الا بشرا رسولا ) یعنی تم اپنے دنیاوی معاملات میں مجھے زیادہ صاحب علم ہو لیکن جہاں تک قرآنی وحی کا تعلق ہے تو اس کے بارہ میں کبھی تر دنہ ہوا کہ اس میں کوئی کمی بیشی ہوگئی ہے اور کبھی کلام الہی کو نہیں بدلا۔یہ شان انسانی طاقت سے بالا ہے اور بلاشبہ پیغمبرانہ شان ہے۔واضح نظر آتا ہے کہ قرآن کریم کو آپ واقعی الہی کلام یقین کرتے تھے اور اسے اپنے کلام سے الگ اور بالا اور ممتاز سمجھتے تھے۔انسان روز مرہ معاملات میں غلطی کے امکان کو پیش نظر رکھتا ہے اور اسی بشری کمزوری کی وجہ سے نظر ثانی کی ضرورت ہمیشہ باقی رہتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوبھی اپنے روز مرہ معاملات میں اسکی ضرورت پڑی جس کی مثالیں ملتی ہیں۔مگر قرآن کریم براہِ راست خدا تعالیٰ کا کلام ہونے کی وجہ سے اس بشری کمزوری سے پاک اور بالا رہا۔یہ اس بات کا بہت روشن ثبوت ہے کہ قرآن کریم بشری کاوش نہیں ہے ورنہ بار بار نظر ثانی اور تبدیلی کی ضرورت پڑتی۔اسی طرح قرآن کریم کی کتابت کے بیان میں یہ ذکر بھی گزر چکا کہ آپ قرآنی وحی لکھنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے جب کہ اس کے برعکس اپنے ارشادات اور اقوال کو لکھنے سے منع فرما دیا تھا تا کہ آپ کے اقوال قرآن کریم کے متن کے ساتھ مل نہ جائیں۔بلکہ ایک دفعہ تو جلانے کا حکم بھی دیا۔یہ طرز عمل بھی واضح کرتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے کلام میں اور اس کلام میں جو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نازل ہوتا تھا فرق کرتے تھے اور جو عزت اور تکریم آپ کلامِ الہی کو دیتے تھے اور جس خصوصیت سے اس کی حفاظت کا التزام فرماتے تھے وہ خصوصیت اپنے کلام کو ہر گز نہیں دیتے تھے۔یہاں یہ ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمودات بھی نفسانی کلام نہیں ہوتے تھے بلکہ یہ بھی الہی راہنمائی کے مطابق ہی ہوتے تھے اس امر کی گواہی اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں دیتا ہے۔وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى ٥ ذُومِرَّةٍ ط فَاسْتَوَى (النجم : 4 تا 7) ترجمہ: اور وہ خواہشِ نفس سے کلام نہیں کرتا۔یہ تو محض ایک وحی ہے جو اُتاری جارہی ہے۔اسے مضبوط طاقتوں والے نے سکھایا ہے۔(جو) بڑی حکمت والا ہے۔پس وہ فائز ہوا۔