اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 155
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب لے جائے گا اور فاتح کی حیثیت سے لوٹائے گا۔155 حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ اس واقعہ کے بارہ میں فرماتے ہیں: اللہ اللہ کیسا تو کل ہے۔دشمن سر پر کھڑا ہے اور اتنا نزدیک ہے کہ ذرا آنکھ نیچی کرے اور دیکھ لے لیکن آپ کو خدا تعالیٰ پر ایسا یقین ہے کہ باوجود سب اسباب مخالف کے جمع ہو جانے کے آپ یہی فرماتے ہیں کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے۔خدا تو ہمارے ساتھ ہے پھر وہ کیونکر دیکھ سکتے ہیں۔کیا کسی ماں نے ایسا بچہ جنا ہے جو اس یقین اور ایمان کو لے کر دُنیا میں آیا ہو؟ یہ جرأت و بہادری کا سوال نہیں بلکہ تو کل کا سوال ہے خدا پر بھروسہ کا سوال ہے۔اگر جرأت ہی ہوتی تو آپ یہ جواب دیتے کہ خیبر پکڑیں گے تو کیا ہوا، ہم موت سے نہیں ڈرتے۔مگر آپ کوئی معمولی جرنیل یا میدان جنگ کے بہادر سپاہی نہ تھے۔آپ خدا کے رسول تھے اس لیے آپ نے نہ صرف خوف کا اظہار نہ کیا بلکہ حضرت ابوبکر کو بتایا کہ دیکھنے کا تو سوال ہی نہیں ہے۔خدا ہمارے ساتھ ہے اور اس کے حکم کے ماتحت ہم اپنے گھروں سے نکلے ہیں۔پھر ان کو طاقت ہی کہاں مل سکتی ہے کہ یہ آنکھ نیچے کر کے ہمیں دیکھ سکیں۔یہ وہ تو کل ہے جو جھوٹے انسان میں نہیں ہوسکتا۔جو ایک پُر فریب دل میں نہیں ٹھہر سکتا۔شاید کوئی مجنوں ایسا کر سکے کہ ایسے خطر ناک موقعہ پر بے پرواہ رہے۔لیکن میں پوچھتا ہوں کہ مجنوں فقدانِ حواس کی وجہ سے ایسا کہہ تو لے لیکن وہ کون ہے جو اس کے مجنونانہ خیالات کے مطابق اس کے متعاقبین کی آنکھوں کو اس سے پھیر دے اور متعاقب سر پر پہنچ کر پھر اس کی طرف نگاہ اُٹھا کر نہ دیکھ سکیں ؟ (سیرت النبی ﷺ از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایڈیشن اول صفحہ: 68۔69) اسی ہجرت کے دوران پھر ایک مرتبہ دُنیا نے آپ کے ایمان کامل کا نظارہ دیکھا جو آپ کو اپنے اوپر نازل ہونے والی وحی الہی پر تھا۔جب غار حرا تک آ کرنا کام لوٹنے پر کفار مکہ نے آپ کی گرفتاری پر انعام مقرر کر دیا۔اس انعام کے لالچ میں سراقہ بن مالک بن جعشم تعاقب کرتا ہوا کسی طرح آپ کے قریب آ پہنچا۔حضرت ابوبکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے خیال سے پریشان ہو گئے اور بار بار مڑ کر پیچھے دیکھتے تھے۔مگر اپنے رب کے وعدوں پر کامل ایمان رکھنے والے ہمارے کوہ وقار و متانت آقا بے فکر ہیں اور ایک بار بھی مڑ کر نہیں دیکھتے کہ کیا ما جرا ہے بلکہ گاہے گاہے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو تسلی دیتے تھے کہ گھبرانے کی بات نہیں خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت اور حفاظت فرمائی، یہ دیکھ کر سراقہ کو بھی یقین ہو گیا کہ آپ