اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 147 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 147

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 147 نے سمجھا ہے وہی ٹھیک ہے غرض ان کی راست اور ناراست اور حق اور باطل اور نیک اور بد پر کچھ نظر ہی نہیں ہوتی بلکہ جس کے ہاتھ سے ان کا کچھ منہ میٹھا ہو جائے وہی ان کے حساب میں بھگت اور سدھ اور جنٹلمین ہوتا ہے اور جس کی تعریف سے کچھ پیٹ کا دوزخ بھرتا نظر آوے اس کو مکتی پانے والا اور سرگ کا وارث اور حیات ابدی کا مالک بنادیتے ہیں۔لیکن واقعات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نظر کرنے سے یہ بات نہایت واضح اور نمایاں اور روشن ہے کہ آنحضرت اعلیٰ درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن اور خدا کے لیے جان باز اور خلقت کے بیم و امید سے بالکل منہ پھیر نے والے اور محض خدا پر توکل کرنے والے تھے کہ جنہوں نے خدا کی خواہش اور مرضی میں محو اور فنا ہو کر اس بات کی کچھ بھی پروانہ کی۔کہ تو حید کی منادی کرنے سے کیا کیا بلا میرے سر پر آوے گی اور مشرکوں کے ہاتھ سے کیا کچھ دکھ اور درد اٹھانا ہوگا۔بلکہ تمام شدتوں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کر کے اپنے مولیٰ کا حکم بجا لائے اور جو جو شرط مجاہدہ اور وعظ اور نصیحت کی ہوتی ہے وہ سب پوری کی اور کسی ڈرانے والے کو کچھ حقیقت نہ سمجھا۔ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعات خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکل کر کے کھلا کھلا شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں۔پس ذرہ ایمانداری سے سوچنا چاہیے کہ یہ سب حالات 66 کیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اندرونی صداقت پر دلالت کر رہے ہیں۔“ ( براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 108 تا 110 ایڈیشن اول صہ 116 تا 121 ) اس گواہی کو تو منٹگمری واٹ جیسا متعصب انسان بھی تسلیم کرتا ہے۔لکھتا ہے: His readiness to undergo persecutions for his beliefs, the high moral character of the men who believed in him and looked up to him as leader, and the greatness of his ultimate achievement-all argue his fundamental integrity۔(W۔Montgomery Watt: Muhammad at Mecca; Oxford 1953, p۔52) آپ کا اپنے عقائد کی پاداش میں ہر قسم کی تکالیف اُٹھانے کے لیے تیار رہنا، آپ کے پیروکاروں، جنہوں نے ہر موقع پر آپ سے راہنمائی لی کا اعلیٰ اخلاقی معیار اور آخر کار آپ کی عظیم الشان فتح یہ تمام باتیں بنیادی طور پر آپ کے دیانت دار ہونے کی دلیل ہیں۔