اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 142 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 142

الذكر المحفوظ 142 اہل مکہ مسلسل اس عہد شکنی کی مرتکب ہورہے تھے۔اس صورت میں ان سے کیے گئے عہد پورے کرنا آپ کا فرض نہیں ہوسکتا تھا۔ہجرت کا وقت وہ وقت تھا کہ تمام سر دار مل کر اپنے اپنے قبیلوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اس امانت میں خیانت کر رہے تھے اور آپ کو قتل کر کے اس سلسلہ کی جڑ کاٹ دینے کے درپے تھے۔اس وقت اہل مکہ اُس امین کے پاس اپنی امانتیں بھی رکھوائے ہوئے تھے۔کوئی بھی ایسے موقع پر سارے کام بھول کر اپنی زندگی بچانے کی فکر کرتا تو اس پر کوئی حرف نہیں آسکتا تھا۔لیکن اس موقع پر اہل نظر نے کیا دیکھا ؟! آپ آن کی امانتوں کی واپسی کی فکر میں غلطاں تھے۔ایسے میں آپ نے حکم الہی کے سامنے سرجھکا دیا اور ہجرت کا مصمم ارادہ کر لیا لیکن اپنے زیر سایہ پرورش پانے والے اور بہت ہی محبوب چچا زادعلی کو اپنے بستر پر لٹادیا تا کہ اگلے دن لوگوں کی امانتیں بحفاظت واپس کر کے مدینہ آجائیں۔(بخاری کتاب المناقب باب مناقب على ) کیا اس سے پہلے کوئی آنکھ ایسی خوش نصیب ہوئی ہے جو ایسا واقعہ دیکھنے کا دعویٰ کرتی ہو؟ کیا کوئی قوم ایسا قابل فخر اور عظیم تاریخی واقعہ پیش کر سکتی ہے؟ نظر بار بار تاریخ کے صفحات سے تھکی ہاری لوٹ آتی ہے۔ہاں ایک واقعہ ہے جو صرف نوعیت کے لحاظ سے ہی کچھ مشابہ ہے مگر کیفیت میں کہیں کم ہے تاہم دیگر انبیاء کے ہجرت کے واقعات کی نسبت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہجرت کے واقعہ کے کچھ قریب ہے۔ہم حضرت موسیٰ کے واقعہ کو دیکھتے ہیں جو ہے تو ہجرت کا ہی لیکن حالات کی سنگینی اور خطرات کے لحاظ سے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو پیش آنے والے واقعہ سے کہیں کم۔کوئی موازنہ اور مقابلہ نہیں ہے لیکن تاریخ موازنہ کرنے کے لیے اور کوئی ایسا واقعہ پیش ہی نہیں کرتی جو اس واقعہ سے بعینہ مشابہ ہو۔اس لیے بامر مجبوری اسی کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔حضرت موسی کو بھی اپنی قوم کو ظلم اور ستم کی وجہ سے اہل ستم کی بستی سے نکال کر لے جانا پڑا۔لیکن آپ نے کیا انتظام کیا؟ تو رات کے مطابق آپ نے اپنی قوم کو ی تعلیم دی کی زادراہ کے لیے اپنے مصری ہمسایوں سے کسی نہ کسی بہانہ سے عاریه زیور وغیرہ لو ( عہد نامہ جدید کتاب خروج باب 12 آیت 35,36 ) - تو رات کے مطابق خدا کا نبی اپنی قوم کو امانتیں لے کر بھاگ جانے کا کہتا ہے۔جبکہ ادھر کیا ہی حسین نمونہ ہے۔زاد راہ مانگنے کا سوال ہی نہیں۔مکہ کے لوگ اس امین کے پاس اپنی امانتیں رکھوائے ہوئے ہیں۔اسوہ موسوی تو ان امانتوں کو استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے مگر اسوہ محمدی کی رو سے سب سے بڑا مرحلہ ان امانتوں کو واپس کرنے کا ہے۔حضرت موسیٰ اکیلے نہیں تھے بلکہ قوم ساتھ تھی۔ادھر حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس رات گھر سے اکیلے نکلنا تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جان کا خطرہ نہیں تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تنی ہوئی نی تلواروں کے محاصرہ میں تھے لیکن ان امانتوں کی حفاظت کتنی عزیز تھی جو اس قوم کی تھیں جو کہ بذات خود الہی امانت میں خیانت کی مرتکب ہورہی تھی۔پھر انتظام بھی کیا خوب کیا کہ اپنے چچازاد کو اپنے بستر پر سلا دیا۔جو آپ کے بیٹوں کی طرح تھا کیوں کہ