اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 135 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 135

135 قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب and strangers, the rich and the poor, the powerful and the weak, with equity, and was loved by the common people for the affability with which he received them, and listened to their complaints۔" (Washington Irving: Mahomet and his Successors, London 1909, pp۔192) یعنی اپنے روز مرہ کے معاملات میں آپ (ﷺ ) عدل وانصاف پر کار بند تھے۔آپ نے واقف اور ناواقف، امیر وغریب، طاقتور اور کمزور، سب کے ساتھ ہمیشہ برابری کا سلوک روارکھا، اور عوام میں اس وجہ سے بہت محبوب ہو گئے کیونکہ آپ سب سے محبت سے پیش آتے اور ان کی حاجت روائی کرتے۔ہم جھٹلانے والے سے پوچھتے ہیں کہ اس درجہ اعلیٰ اخلاق کا حامل انسان کہ جس کی سچائی پر اس قدر اندرونی اور بیرونی دلائل اکٹھے ہو گئے ہوں کہ اب تک کسی کی سچائی پر اتنے دلائل مہیا نہ ہو سکے ہوں، جس کی سچائی کی گواہی اپنوں نے دی اور بیگانے بھی اسے سچاہی کہتے رہے، دوست بھی اسے سچاہی کہیں اور دشمنوں کے پاس بھی اسے سچا تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو۔ایک قوم نے بحیثیت قوم اس کے سچا ہونے پر گویا اجماع کر لیا، اُس پر ایکا ایک ایسی کیا مصیبت ٹوٹی کہ اچانک اپنی ساری نیک نامی کو چھوڑ چھاڑ کر جھوٹ سے ایسا لپٹا کہ پھر موت تک اس سے الگ نہ ہوا۔کیا یہ ممکن ہے؟ پھر ساری زندگی کبھی عام انسانوں پر تو جھوٹ نہیں باندھا مگر اب جھوٹ باندھا بھی تو خدا پر۔کیا یہ ممکن ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” بے انصافی ان کی اس سے ظاہر ہے کہ اگر مثلاً کوئی عورت کہ جس کی پاک دامنی بھی کچھ ایسی ویسی ہی ثابت ہو۔کسی ناکردنی فعل سے متہم کی جائے تو فی الفور کہیں گے جو کس نے پکڑا اور کس نے دیکھا اور کون معائنہ واردات کا گواہ ہے۔مگر ان مقدسوں کی نسبت کہ جن کی راستبازی پر نہ ایک نہ دو بلکہ کروڑہا آدمی گواہی دیتے چلے آئے ہیں بغیر ثبوت معتبر اس امر کے کسی کے سامنے انہوں نے مسودہ افترا کا بنایا یا اس منصو بہ میں کسی دوسرے سے مشورہ لیا یا وہ راز کسی شخص کو اپنے نوکروں یا دوستوں یا عورتوں میں سے بتلا یایا کسی اور شخص نے مشورہ کرتے یا راز بتلاتے پکڑا۔یا آپ ہی موت کا سامناد دیکھ کر اپنے مفتری ہونے کا اقرار کر دیا۔یونہی جھوٹی تہمت لگانے پر تیار ہو جاتے ہیں۔پس یہی تو سیاہ باطنی کی نشانی ہے اور اسی سے تو ان کی اندرونی خرابی مترشح ہو رہی ہے انبیاء وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنی کامل راستبازی کی قوی حجت پیش کر کے اپنے دشمنوں کو بھی الزام دیا ایسا کہ یہ الزام قرآن شریف میں حضرت خاتم الانبیا ﷺ کی طرف سے موجود ہے جہاں فرمایا ہے فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمُ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ عَ أَفَلا تَعْقِلُونَ (سورۃ یونس الجزوا ) [ یونس : ۱۷] یعنی میں ایسا نہیں کہ جھوٹ بولوں اور افتراء