اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 125 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 125

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 125 وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ ايَتٌ مِّنْ رَّبِّهِ قُلْ إِنَّمَا الْأَيتُ عِنْدَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نذِيرٌ مُّبِينٌ - (العنكبوت:51) یعنی اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی آیت کیوں نازل نہیں ہوتی۔تو کہہ دے کہ آیات تو اللہ کے پاس ہیں۔میں تو صرف ایک واضح طور پر متنبہ کرنے والا ہوں۔گو یا جب کسی معاملہ میں کفار کوئی آیت طلب کرتے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے کہ یہ سب تو خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔میں اپنی طرف سے کوئی آیت کیسے پیش کر سکتا ہوں؟ اور اس بات کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے یہ گواہی دے دی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کبھی قرآن میں اپنی طرف سے کوئی آمیزش نہیں کی۔پھر خدا تعالیٰ قرآن کریم کو غیر اللہ کے دخل سے بکلی پاک ہونے کی ایک ایسی دلیل دیتا ہے جس کی بنیاد پر ہر زمانہ میں قرآن کریم کی حفاظت کو پر کھا جاسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (النساء: 83) اگر یہ قرآن خدا کے سوا غیر اللہ کی طرف سے بھی ہوتا تو اس میں بہت اختلاف ہوتا۔قرآن کریم کی تعلیمات پر نظر ڈالنے سے بخوبی علم ہو جاتا ہے کہ یہ بہر حال کلامِ الہی ہی ہے۔قرآن میں ایسی تعلیمات اور ایسے علوم کی طرف راہنمائی ہے کہ اس کو بہر حال خدا کا کلام تسلیم کرنا پڑتا ہے۔اس بات کو اختلاف مذاہب اور اختلاف عقیدہ کے باوجود گزشتہ چودہ سو سال میں ساری دُنیا میں اہل علم تسلیم کرتے رہے ہیں کہ رسول کریم کے زمانہ میں جب کہ سائنسی علوم میں اتنی ترقی نہیں ہوئی تھی ، کس طرح قرآن کریم جدید سائنس کے مطابق حقائق بیان کرتا ہے اور کئی سر بستہ رازوں سے پردہ اُٹھاتا ہے۔اگر یہ کلام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تو پھر آج قانون قدرت سے اس کا اختلاف نظر آجاتا جیسا کہ دوسرے مذہبی صحائف میں نظر آتا ہے۔یہاں یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ اگر قرآن میں کوئی بات بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی طرف سے شامل کی ہوتی تو اس آیت لوگـانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (یعنی اگر یہ قرآن خدا کے علاوہ کسی اور کسی طرف سے ہوتا تو اس میں ضرور کثیر اختلاف ملتا) کے تحت یہ قلعی کھل چکی ہوتی۔کیسے ممکن ہے کہ ایسے کلام میں جو انسانی دسترس سے بالا ہو، کوئی انسانی کلام مل جائے اور پھر اس طرح مل جائے کہ انسانی کلام اور کلام الہی بالکل مشابہ ہو جائیں اور دونوں میں باہمی فرق ہی نہ کیا جا سکے؟ یوں تو قرآن کریم اپنے الہی کلام ہونے کے دلائل بہت تفصیل سے بیان کرتا ہے۔مگر براہ راست مضمون سے تعلق نہ ہونے کی وجہ سے ہم اس تفصیل میں نہیں جاسکتے اور صرف آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ جو آپ کی صداقت کا ثبوت ہیں، تک ہی محدود رہتے ہیں گو یہ احساس بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ مضمون بھی فی ذاتہ لامحدود ہے۔