اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 124
الذكر المحفوظ 124 نے خود رکھے ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی طرف سے فرماتا ہے کہ قرآن مجید سے متعلق میں ہر بات کو وحی سے ہی طے کرتا ہوں اور یہ کہنا کہ بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو وحی الہی سے ایسا کرتے تھے مگر صحابہ نے اپنی مرضی سے بعض تغیرات کر دیئے۔بالکل ہی خلاف عقل ہے۔کیونکہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوحق نہیں تھا تو صحابہ کو کیسے یہ حق حاصل ہوسکتا تھا اور وہ ، سوائے اس کے کہ نعوذ باللہ انہیں مرتد قرار دیا جائے کب ایسا کر سکتے تھے؟“ ( تفسیر کبیر جلد 3 صفحہ 45 زیر تفسیر یونس : 16) حضرت امام رازگی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: سورۃ یونس کی اس آیت کے تحت کئی مفسرین نے بھی یہ بات لکھی ہے کہ قرآن مجید کی ترتیب خود خدا تعالیٰ نے قائم کی تھی اور اپنے رسول کو اس بات کا کوئی اختیار نہیں دیا تھا کہ اپنی 66 مرضی سے قرآن کریم کی ترتیب میں کوئی تصرف کرتے۔“ (تفسير كبير لالررازى الجزء 17 صفحه 55 56 دار الكتب العلميه تهران الطبع الثاني) تفسیر القرطبی میں سورۃ یونس آیت 16 کے تحت لکھا ہے۔یہ آیت اس بارہ میں ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا کہ قرآن کو کسی اور ترتیب سے پیش کریں مگر آپ کو اس کا اختیار نہ تھا۔اور یہ بات بھی مدنظر رہے کہ جو کچھ بھی آپ فرماتے تھے جب کہ وہ وحی پر مبنی تھا تو وہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا نہ کہ آپ کی طرف سے۔(محمد بن عبدالله القرطبي : الجامع لاحكام القرآن جزو 8صفحه 319) تفسیر القاسمی میں سورۃ یونس آیت 16 کے تحت لکھا ہے: یعنی کفار نے آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ اس قرآن کو کسی اور ترتیب سے یا کسی اور شکل میں پیش کریں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ جواب سکھایا کہ قُلُ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِلَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِی یعنی یہ کام میرے ہاتھ میں نہیں۔میں تو اللہ تعالی کی کہی ہوئی بات بعینہ پہنچانے پر مامور ہوں۔(محمد جمال الدين: محاسن التاويل تفسير القاسمی جلد 6صفحه 14) ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ یہ گواہی ان الفاظ میں درج فرماتا ہے: بالْحَقِّ أَنْزَلْنَهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ (بنی اسرائیل : 106) یعنی حق کے ساتھ یہ کلام ہم نے نازل کیا اور حق ہی کے ساتھ ہی یہ نازل ہوا۔