اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 123
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 123 ضرور جھوٹ بولتا ( بخاری کتاب بدء الوحی باب بدء الوحی ) مگر مزید یہ بیان کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی بھی موقع پر آپ کے بارہ میں یہ شک کیا ہی نہیں جاسکتا کہ آپ ادنی سی بھی بددیانتی کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔قرآن کریم کا معاملہ تو بہت بڑا معاملہ ہے، آپ کی سیرت و سوانح کے مطالعہ سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ کسی چھوٹے سے چھوٹے معاملہ میں بھی آپ کی ذات کی طرف کوئی بھی ادنیٰ سے ادنی بددیانتی کبھی منسوب کی ہی نہیں جاسکتی اور دوست تو دوست دشمن بھی اس حقیقت کے قائل ہیں۔خدا تعالی بھی گواہی دیتا ہے کہ آپ نے کوئی تبدیلی نہیں کی اور مومنین بھی یہی گواہی دیتے ہیں۔بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر مخالفین بھی یہی گواہی دیتے اور کھلم کھلا اعتراف کرتے ہیں کہ انہیں اپنی ذات سے زیادہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور دیانتداری پر یقین ہے۔ذیل میں ہم نعلی اور عقلی دلائل کی روشنی میں اس حقیقت کا مطالعہ کرتے ہیں۔قرآن کریم سے ثبوت قرآن کریم میں بار بار یہ گواہیاں ملتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوری دیانت داری کے ساتھ ، بناتحریف و تبدل کے قرآن کریم ہم تک پہنچایا ہے اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوئی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَ نَا اثْتِ بِقُرْآن غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِلَهُ مِنْ تِلْقَايُّ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (يونس: 16) ترجمہ: وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں اس کی بجائے کوئی اور قرآن لے آ، یا اسے ہی تبدیل کر دے۔تو کہہ دے کہ مجھے اختیار نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں۔میں تو اس کی ہی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے۔اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں اتنینا ایک عظیم دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔مطلب یہ ہے کہ میں قرآن مجید کے متعلق تمام باتیں وحی الہی سے کرتا ہوں اور اس میں خود کوئی دخل نہیں دیتا۔لہذا میں کوئی تبدیلی یا تغیر نہیں کر سکتا۔اس آیت سے ان لوگوں کا بھی رڈ ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ہر سورۃ سے پہلے لکھنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہے نہ کہ وحی سے۔یا ترتیب قرآن اور سورتوں کے نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم