اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 120
الذكر المحفوظ 120 تھا ؟ کیا حضرت عیسی کے اس قول پر ویلیم میور کو ایمان نہیں کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔“؟ جب صحابہ کے اخلاق کی شان ایسی بلند تھی تو پھر ان کے آقا کی شان بلند تو وہم و گمان سے برتر ہے۔پھر لطف یہ کہ دوسری جگہ خود ہی اپنے اس قول کو ر ڈ بھی کر دیتا ہے جہاں یہ گواہی دیتا ہے کہ: "Our authorities all agree in ascribing to the youth of Mohammad a modesty of deportment and purity of manners rare among the People of Mecca۔۔۔and he received the title, by common consent, of Al-Ameen, the Trustworthy۔" (W۔Muir:Life of Mohammad, London 1903۔Intorduction pg17) ہماری تمام تر تحقیقات اس معاملہ میں متفق ہیں کہ محمد (ﷺ) کی جوانی تو ازن اور پاکیزگی کا شاہکار تھی جو اس دور کے عربوں میں مفقود تھا۔آپ کو خطاب ملا تھا الا مین! سب سے بڑھ کر قابل اعتماد دُنیا کی عام عدالتوں میں بھی اگر کسی پر کسی جرم کا مقدمہ بنایا جائے تو باوجود اس کے کہ ملزم کی عصمت اور پاک دامنی کوئی ثابت شدہ امر نہیں ہوتا اور نہ ہی دوست دشمن کا اس پر اتفاق ہوتا ہے کہ یہ شخص ایسے اعلیٰ اخلاقی مرتبہ و مقام کا ہے کہ اس سے ایسا جرم سرزد ہونا محال ہے۔بلکہ اگر جانتے بھی ہوں کہ یہ شخص اس قماش کا ہے کہ اس سے غلط حرکت یا جرم سرزد ہونا بعید از قیاس نہیں ہے تو پھر بھی مقدمہ قائم کرنے والے سے ثبوت طلب کیا جاتا ہے اور تسلی بخش ثبوت مہیا نہ کر سکنے پر اس ملزم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔بلکہ ثبوت مہیا نہ ہونے پر عدالت ملزم کو یہ حق بھی دیتی ہے کہ ایسا مقدمہ قائم کرنے والے یعنی مدعی کے خلاف ہتک عزت اور ہرجانہ کا دعوی بھی کرے۔اگر ایسا نہ کیا جائے تو دُنیا میں بدباطن اور گندے دل و دماغ والے لوگ شرفاء کا جینا حرام کر دیں۔ہر بے شرم جسے جھوٹ بولنے سے صرف سزا کا خوف ہی روک سکتا ہے، کھل کر اپنی غلاظتوں سے معاشرہ کو خراب کرتا چلا جائے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ط وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنَّا إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا (يونس: 37) اور اُن میں سے اکثر ظن کی پیروی کرتے ہیں اور حتمی بات کے مقابل پر اندازوں کی تو کوئی اہمیت نہیں ہوسکتی۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک مہذب معاشرہ میں کسی عام شخص پر بھی بلا ثبوت جھوٹ کا الزام لگا نائر افعل سمجھا جاتا ہے بلکہ اشتہاری مجرموں پر بھی اگر کوئی نئی فرد جرم لگائی جائے تو بھی ثبوت پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔پھر انبیاء، جن کی پاک دامنی پر ہم عصر مخالف اور موافق گواہ ہوتے ہیں۔جان کے دشمن بھی ان کے اعلیٰ اخلاق کی گواہی دیتے ہیں۔کروڑ ہا بندگان خدا ان کا اسوہ اپنی زندگیوں میں بطور اخلاق کے اپناتے ہیں اور