اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 119 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 119

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 119 رسول کریم اللہ قرآن کریم میں کوئی رد و بدل نہیں کر سکتے تھے ابن وراق نے متنازعہ آیات اور عبد اللہ بن سعد ابی سرح کے واقعات کو تاریخی طور پر مسخ کر کے پیش کر کے قاری کے ذہن میں یہ شبہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ (معاذ اللہ ) رسول معصوم و صادق و امین صلی اللہ علیہ وسلم بھی قابل اعتبار نہیں تھے اور ہو سکتا ہے کہ آپ نے حالات کے مطابق کچھ رڈو بدل کیا ہو۔کیونکہ یہ تو ثابت ہو گیا اور اس بات میں بھی کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور حفاظت کے تمام ظاہری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ہم تک پہنچا لیکن یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ جو خدا نے نازل کیا ہے وہی ہم تک پہنچا ہے۔کیا ایسا ممکن نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس میں خود ہی کوئی رد و بدل کر دیا ہو؟ وسیلیم میور بھی ایک جگہ قرآن کی بے نظیر حفاظت کا اعتراف کرتے ہوئے ساتھ ہی ان الفاظ میں نیش زنی بھی کر جاتا ہے کہ : "What we have, though possibly created and modified by himself, is still his own۔" ترجمہ۔اب جو قرآن ہمارے ہاتھوں میں ہے۔گو یہ بالکل ممکن ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے زمانہ میں اسے خود بنایا ہو اور بعض دفعہ اس میں خود ہی بعض تبدیلیاں بھی کر دی ہوں مگر اس میں شبہ نہیں کہ یہ وہی قرآن ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ہمیں دیا تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں یہ کہنا کہ ہو سکتا ہے آپ نے قرآن کریم میں اپنی طرف سے کچھ رڈو بدل کیا ہو اس کے جواب میں اول تو یہ کہنا ہی کافی ہے کہ یہ صرف ایک شک یا صرف ایک دعوی ہے جو کہ ثبوت کے ساتھ پیش کرنا چاہیے کہ واقعی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم میں کوئی رد و بدل کیا ہے۔جو دو واقعات تم نے پیش کیے ہیں وہ تاریخ حقائق کی روشنی میں غلط ثابت ہوتے ہیں۔پس اگر کوئی ثبوت نہیں ہے تو پھر ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ شک غلط اور بے بنیاد ہے اور شک کرنے والے کی اندرونی غلاظتوں کا ایک نمونہ ہے۔این وراق کی طرح مذکورہ بالا سطور میں ویلیم میور نے بھی سراسر ظلم کی راہ اپنائی ہے۔تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ تو تسلیم کرلیا کہ رسول کریم کے صحابہ نے کمال دیانت داری اور عشق و وفا کے بے نظیر نظارے دکھاتے ہوئے قرآن کریم بلا کم و کاست ہم تک پہنچایا۔مگر اُن صحابہ کے آقا ومطاع، جن کی تربیت نے صحابہ کو دیانت داری کے یہ اعلیٰ اسلوب دکھائے اور اپنے مولیٰ سے ایسی محبت سکھائی جس کو بنیاد بناتے ہوئے انہوں نے قرآن کریم کا بحیثیت کلام الہی غیر معمولی اکرام کیا اور اپنی جانیں نچھاور کر کے اس کی حفاظت کی ، اُس مربی اعظم پر بلا ثبوت اعتراض کر دیتا ہے۔کیا جو نمونہ صحابہ نے محافظت قرآن کے ضمن میں دکھا یا وہ اُن کا آقا نہیں دکھا سکتا