اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 118
الذكر المحفوظ 118 علامہ آلوسی اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ان ذلك من حسن نظم القرآن الكريم حيث تدل صدور كثير من آياته (علامه محمود آلوسی : روح المعانی جلد 10 صفحه 16 تفسير سورة المؤمنون آيت فتبارك الله احسن الخالقين) یعنی یہ آیت یقیناً قرآن کریم کے حسنِ ترتیب کی بہترین مثال ہے کہ قرآن کریم کی آیات کے اعجاز پر بہت سے لوگوں کے دل گواہی دیتے ہیں۔خلاصہ عبد اللہ بن سعد ابی سرح کا واقعہ ایک دوسرے شخص کے واقعہ سے خلط ملط کر کے پیش کیا گیا ہے۔اس واقعہ سے ایسا کوئی ثبوت اُس دور کے مخالفین کے ہاتھ نہیں لگا کہ وہ اسے اسلام کے خلاف استعمال کر سکتے۔اس طرح دوسرا شخص جو کوئی بھی تھا وہ اس قابل نہیں تھا کہ مخالفین اسے اسلام یا قرآن کے بارہ میں شکوک پیدا کرنے کے لیے بطور گواہ استعمال کر سکتے۔پس یہ دونوں واقعات اُس دور کے مخالفین اسلام کے نزدیک اسلام کے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے اور نہ ہی جائے اعتراض تھے۔اعتراض پیدا کرنے کے لیے روایات کو خلط ملط کر کے اُس شخص کے واقعہ کو عبد اللہ بن سعد ابی سرح کے حوالہ سے پیش کر کے عدل وانصاف کا خون کیا گیا۔نیز یہ بھی مد نظر رہے کہ از روئے تاریخ عبد اللہ بن سعد ابی سرح کے اسلام سے روگرداں ہونے کی وجہ کتابت قرآن نہ تھی۔جہاں تک عبداللہ بن ابی سرح کے وحی الہی سے تو اردو کا تعلق ہے تو یہ جائے اعتراض نہیں کیونکہ نبی الزمان کی آمد کے وقت انتشار نورانیت ہوتا ہے اور سعید فطرت لوگوں کو بھی خدا تعالیٰ ایمان کی پختگی کے لیے نبی پر نازل ہونے والی وحی الہی سے کچھ حد تک سرفراز کر دیتا ہے۔علاوہ ازیں یہ کہ قرآن کریم کی آیات میں خاص ربط ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔پس انسانی فطرت سے جو آواز اُٹھتی ہے اسے قرآن کریم نے نہایت حسین اور دلکش پیرایہ میں الفاظ کا جامہ پہنایا ہے۔یہ آواز مختلف مواقع پر بعض دیگر صحابہ کے دلوں سے بھی اٹھی اور عبداللہ بن سعد ابی سرح کے دل سے بھی وہی آواز اٹھی۔اسی فطرتی سعادت کی وجہ سے آپ نے دوبارہ آغوش اسلام میں آن پناہ لی اور صحابہ کے نقوشِ پا پر چلتے ہوئے اپنی زندگی اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دی اور بیچے جانثار اور خدمت گزار دین بن کر زندگی گزاری۔ان دو واقعات کو خلط ملط کر کے ابن وراق یہ شبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم میں ردو بدل کیا ہے۔اب جب واقعات کی حقیقت تو قاری پر کھل ہی چکی ہے۔اب ان واقعات کو غلط انداز میں پیش کر کے جو غلط نتیجہ نکال رہا ہے اس پر بھی نظر ڈالتے ہیں کہ کیا ایسا سوچا بھی جاسکتا ہے؟