اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 117
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 117 اتناہی اس کا دل قرآنی تعلیم سے مشابہ ہوگا۔چنانچہ یہ واقعہ اور بہت سے دیگر واقعات اس دعوی کی صداقت میں دوسرے دلائل کے علاوہ ایک پختہ دلیل ہیں۔چنانچہ منافقین کا جنازہ پڑھنے سے ممانعت،احکام حجاب کا نزول، مقام ابراہیم کومصلی بنانا وغیرہ مضامین پر مشتمل آیات قرآن کریم کی تعلیم کے سعید انسانی فطرت کے عین مطابق ہونے کی دلیل کے طور پر بطور تعلیم قرآن کریم میں نازل ہوئیں۔علاوہ ازیں آیت فَتَبَارَكَ الله أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ اس سے قبل بیان ہونے والے مضمون کا ایک طبعی نتیجہ ہے۔لطف کی بات یہ ہے کہ صرف عبد اللہ بن سعد ابی سرح کی ہی زبان پر یہ آیت جاری نہیں ہوئی بلکہ مدینہ آکر جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ المؤمنون کی ہی آیات حضرت زید بن ثابت کو لکھوائیں تو یہی آیت دوسرے صحابہ کی زبان پر بھی جاری ہوئی۔حضرت زید بن ثابت روایت کرتے ہیں کہ: وو املى على رسول الله لا ل له هذه الآية " وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِّنْ طِينِ» الى ” فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ “ فقال معاذ بن جبل ” فَتَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، فضحك رسول الله الا الله فقال له معاذ بم ضحكت يا رسول الله، قال بم ختمت۔فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ “ 66 (حافظ طبرانی: المعجم الاوسط ،متوفى سنه 360 جلد 5 حديث 4654) حضرت زید فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ المؤمنون کی آیات وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِّنْ طِينٍ سے فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ تِک املا کر وا ر ہے تھے تو معاذ بن جبل بے اختیار بول اُٹھے فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ - اس پر رسول اللہ اللہ ہنس دیے۔معاذ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول آپ کیوں ہنسے تو آپ نے فرمایا تمہارے فَتَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ کہنے پر ( کیونکہ یہ بھی وحی کا حصہ ہے )۔ایک اور جگہ بھی یہ روایت ملتی ہے کہ جب حضرت عمر نے سورۃ المؤمنون کے آیات ثُمَّ أَنشَأْنَهُ خَلْقاً اخر تک سُنیں تو آپ کے دل سے بھی بے اختیار یہی صدا بلند ہوئی فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ۔(حافظ طبرانی : المعجم الاوسط متوفى سنه 360 جلد 6 حديث 5658) اب یہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر دیگر صحابہ کے دل کی آواز گواہ ہوگئی کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرضی سے متن قرآن میں درج نہیں کروائی بلکہ وحی الہی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بننے میں ایک حکمت یہ بھی ہوگی کہ عبد اللہ بن سعد ابی سرح کے بعد مزید ایک گواہی مل گئی کہ یہ آیت اپنے مضمون کی حسنِ ترتیب کی وجہ سے ثُمَّ أَنشَأْنَهُ خَلْقاً اخر تک مضمون سننے کے بعد پاک طینت سامع کے دل سے خود بخودہی پھوٹ پڑتی ہے۔