اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 113
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب اسلام کو پہلے دو امیرالبحر ملے۔113 پس آپ کا یہ کہنا کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی رضا مندی سے قرآن کریم میں رد و بدل کر دیا کرتا تھا، ایسا غیر اہم واقعہ نہیں تھا کہ کفار خاموش رہتے اور ابوسفیان آپ کے مرتد ہونے اور ان تفصیلات کو کوئی اہمیت ہی نہ دیتا۔عبداللہ بن سعد ابی سرح تو مکی دور کے کاتب تھے۔تاریخ میں مدنی دور کے ایک واقعہ کا ذکر ملتا ہے۔روایت ہے: أن رجلا كان يكتب لرسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا املى عليه سميـعــا يـقـول كتبت به بصيرا، قال دعه واذا املى عليه عليما حكيما كتب عليما حليما - قال : وقد كان قرأ البقرة وآل عمران و كان قرأهما قد قرأ قـرانـاً كثيرا فذهب متنصرا فقال لقد كنت اكتب لمحمد ما شئت فيقول: دعه فمات فدفن فنبذته الارض مرتين او ثلاثا قال ابو طلحه ولقد رأيته منبوذا فوق الارض۔(مسند احمد بن حنبل الجزء الرابع، مسند انس بن مالك 3/246 كتاب المصاحف باب من كتب الوحى لرسول الله الا الله) یعنی ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی قرآن کی کتابت کیا کرتا تھا۔آپ اُسے لکھواتے سمیعا تو وہ بصیرا لکھ دیتا۔آپ نے فرمایا جانے دو۔اسی طرح جب آپ اُسے لکھواتے علیما حكيما تو وہ لکھتا عليما حليما اس پر بھی آپ نے فرمایا کہ جانے دو۔اس نے سورۃ البقرۃ اور سورۃ ال عمران ، قرآن کریم کا ایک بڑا حصہ حفظ کیا ہوا تھا۔وہ کچھ عرصہ بعد عیسائی ہو گیا اور جگہ جگہ یہ کہتا پھرتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ لکھواتے تھے اور میں کچھ اور لکھا کرتا تھا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تعرض نہ کرتے۔اس کی موت کے بعد جب اُسے دفناتے تو زمین اس کی لاش اُگل دیتی اور ایسا دو، تین مرتبہ ہوا۔ابوطلحہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کی لاش سطح زمین پر گلتی سڑتی دیکھی تھی۔مذکورہ بالا روایت میں جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں، ابن وراق انہیں عبد اللہ بن سعد ابی سرح کی طرف منسوب کر رہا ہے۔جبکہ روایت میں واضح ذکر ہے کہ یہ شخص مدینہ کا تھا، مدینہ میں ہی وحی لکھا کرتا تھا اور مدینہ میں ہی مرا تھا۔نہ تو اس نے مکہ سے ہجرت کی تھی اور نہ ہی مرتد ہو کر کبھی مکہ گیا تھا۔جبکہ عبداللہ بن سعد ابی سرح مکی دور کے کاتب تھے۔ہجرت کر کے مدینہ آئے اور جلد ہی واپس چلے گئے تھے۔پس ابنِ وراق کے پیش کردہ علی داشتی کے حوالہ میں اس شخص کو عبداللہ بن ابی سرح کا نام دیا گیا ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔مذکورہ بالا روایت میں مذکور شخص کا ذکر حضرت امام بخاری اپنی صحیح میں بھی کرتے ہیں۔مگر ظاہر ہے کہ اس