اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 109
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 109 نے اپنے رب کے بڑے بڑے نشانات دیکھے ہیں اُس کے مقابلہ میں کافروں کو کہا گیا ہے کہ أَفَرَتَيْتُمُ اللَّاتَ وَ الْعُزَّى یعنی بتاؤ تو سہی کہ کیا تم نے بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرح اپنے بتوں کا کوئی نشان دیکھا ہے۔یعنی تم نے نہیں دیکھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خدا کے بڑے بڑے نشانات دیکھے ہیں۔یہ تو شرکیہ آیات سے پہلے کی آیتیں اور ان شرکیہ آیات کے بعد کی یہ آیت ہے کہ اِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاء سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَ آبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطن یعنی یہ بتوں کے نام تو تم نے خود رکھ لیے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اس کے لیے کوئی دلیل نہیں اُتاری۔اب بتاؤ کہ کیا یہ ممکن ہے کہ شرک کے اقرار سے پہلے بھی شرک کی تردید کی آیتیں ہوں اور اُن کے بعد بھی شرک کی تردید کی آیتیں ہوں۔باوجود اس کے کوئی شخص کہہ دے کہ ان دو تر دیدوں کے درمیان محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان پر شیطان نے شرک کے کلمات جاری کر دیے تھے۔شیطان کو تو ہمارے مفسر عقلمند کہتے ہیں۔یہاں تک کہ سورہ بقرہ کی آیات میں شیطان کو فرشتوں کا استاد قرار دیتے ہیں اور شیطان اور خدا تعالیٰ کے مباحثے میں خدا کو ہرایا گیا ہے مگر اس کہانی والا شیطان تو کوئی گدھا معلوم ہوتا ہے کہ اُس کو شرکیہ کلمات کے لیے دو زبر دست توحیدی آیات کے درمیان ہی مقام ملا۔اس شیطان کو تو پاگل خانہ میں داخل کرنا چاہیے۔ایسا اتو خدا کے بندوں کو بہکا تا کس طرح ہے؟ پھر یہ لطیفہ دیکھو کہ یہ سورۃ اس آیت پر ختم ہوئی ہے فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا کہ اے لوگو اللہ کے سامنے سجدہ کرو اور صرف اسی کی عبادت کرو۔اس آیت کو سُن کر کون گدھا تھا جو یہ سمجھتا تھا کہ محمد رسول اللہ نے کوئی شرکیہ کلمات کہ دیے ہیں۔غرض اس سورۃ کی آیت آیت ہی اس کہانی کورد کر رہی ہے۔یہ اندرونی شہادت ہے اور بیرونی شہادت یہ ہے کہ مہاجرین حبشہ اس کہانی کوشن کر اس وقت مکہ میں واپس نہیں آسکتے تھے جس وقت وہ آئے۔جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں۔( تفسیر کبیر جلد ششم زیر آیت الحج 53 صفحہ 68 تا 71) اب یہ واقعہ ہے شیطانی آیات کا اور یہ ہے اس کی حقیقت۔اب بتائیں ابن وراق کہ کیا اعتراض ہے اس پر اور کون سی آیات ہیں جو رسول کریم نے چھوڑی ہیں؟ پس جب ابن وراق کو واقعہ ہی غلط پہنچا ہے تو پھر نتیجہ بھی غلط ہی ہے کہ یہ قصہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول کریم نے کچھ آیات خرد برد کی ہیں“ اس مذکورہ بالا واقعہ کے علاوہ ایک واقعہ عبداللہ بن سعد ابی سرح کے حوالہ سے بھی پیش کیا جاتا ہے۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔