اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 99 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 99

99 عہد خلافت راشدہ میں جمع و تدوین قرآن سامنے تلاوت کیا جاتا۔پھر ہر رمضان میں نماز تراویح میں اس کی دہرائی ہوتی۔-4 دن رات کلام الہی کی درس تدریس کا سلسلہ جاری تھا۔ہر وقت اس کی تلاوت کی جاتی۔اپنے اور بیگانے سب اس کے ایک ایک لفظ کی صداقت کے گواہ تھے اور بلا مبالغہ یہ علم بھی چند صحابہ کے پاس محفوظ تھا کہ فلاں آیت کس جگہ، کس موقع پر اور کن حالات میں نازل ہوئی۔5۔پھر جن لوگوں کے سپرد یہ امانت ہوئی تھی یعنی آنحضور کے صحابہ کا نمونہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ وہ اخلاق عالیہ کے ایسے اعلیٰ اور ارفع مقام پر فائز تھے کہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اخلاقی ، روحانی اور دنیاوی آداب کے نئے اور اعلیٰ پیمانے قائم کرنے والی قوم ایک ایسی عظیم الشان قومی بددیانتی کی مرتکب ہو جاتی۔ایک ایسی قوم کہ جس کے حالات کا مطالعہ کرنے سے اس بات پر یقین ہو جاتا ہے کہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا ہو جس نے قرآن کریم کے معاملہ میں ادنی سی بھی بد دیانتی کی ہو اور نہ ہی تاریخ میں کوئی ایسی مثال ملتی ہے۔بلکہ جہاں ادنی سی بھی غلط فہمی پیدا ہوئی تو حفاظت قرآن کے ضمن میں ایسی غیرت ایمانی کا نمونہ دکھایا کہ اگر کسی منافق یا مخالف کے دل میں تبدیلی پیدا کرنے کی کوئی اُمید بھی ہوگی تو وہ بھی دم تو ڑگئی ہوگی۔یہ ذکر گزر چکا ہے کہ کسی بھی قوم کا اس طرح خاموشی سے کسی قومی بددیانتی پر متفق ہو جانا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو، ہرگز ممکن نہیں۔انہوں نے تو قرآن کریم کی حفاظت اور اشاعت کے لیے ایسے ایسے ہولناک مظالم برداشت کیے تھے کہ پڑھ کر ہی انسان کی روح تک میں لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔پس اُن میں سے کسی ایک کے بارہ میں بھی یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کجا یہ کہ پوری قوم کے بارہ میں سوچا جائے۔6- پھر حضرت ابو بکر نے امت کی گواہی ڈلوا کر اور امت کو اعتماد میں لے کر حفاظت قرآن کے حوالہ سے پیدا ہونے والے تمام تر شبہات جڑ سے ختم کر دیے۔7- حضرت عثمان نے اختلاف قراءت کا فیصلہ کر کے اور ایک قراءت پر امت کو جمع کر کے حفاظت قرآن کے موضوع پر غلط فہمی کے آخری امکان کو بھی ختم کر دیا۔پس کلام الہی اس درجہ احتیاط کے ساتھ آگے منتقل کیا گیا تھا کہ کوئی تبدیلی مکن ہی نہیں تھی جب تک کہ ساری قوم اور ہزاروں ہزار جانثار، یک بیک غدار نہ ہو جاتے اور پھر اتنے بڑے پیمانہ پر تبدیلی کے بارہ میں ممکن ہی نہیں تھا کہ تاریخ کی باریک بین نظروں سے چھپائی جاتی اور منتقل بھی اُن لوگوں کو کیا گیا جو اپنی جانوں اور مالوں کی قربانیوں کے ساتھ ہر لحاظ سے آزمائے جاچکے تھے۔وہ اس کے ایک ایک لفظ پر محاورۃ نہیں بلکہ حقیقت جان نچھاور کرنے کو تیار تھے اور اس کی عملی مثالیں بار ہا پیش کر چکے تھے اور ایسے نمونے دکھا چکے تھے کہ آج ان کو دیکھ کر مخالف آنکھ بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ وہ ایک باوفاقوم تھی اس بات کا ذکر H۔M۔Hyndman اپنے انداز میں یوں کرتا ہے: "۔۔۔This very human prophet of God had such a remarkable personal influence over all with whom he