اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 88 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 88

88 الذكر المحفوظ به۔۔۔۔وكان لا يقبل من احد شيئا حتى يشهد شهيدان و هذا يدل على ان زيدا كان لا يكتفى بمجرد وجد انه مكتوبا حتى يشهد به من تلقاه سماعا مع كون زيد كان يحفظ فكان يفعل ذلك مبالغة في الاحتياط۔۔۔و كان الناس يأتون زيد بن ثابت فكان لا يكتب آية الا بشاهدى عدل۔(الاتقان في علوم القرآن جزء اول النوع الثامن عشر في جمعه و ترتیبه صفحه 58) چنانچہ حضرت عمر نے اعلان فرمایا کہ جس کسی کے پاس آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا ہوا یا لکھا ہوا کوئی حصہ قرآن ہو تو لے آئے اور وہ اس وقت تک کوئی آیت قبول نہیں کرتے تھے جب تک دو قسم کی شہادتیں نہ اکٹھی ہو جاتیں۔زید صرف تحریر پر اکتفا نہیں کرتے تھے اور حفظ کی گواہی بھی طلب کرتے تھے۔حضرت زید خود بھی حافظ قرآن تھے لیکن اس کے باوجود بدرجہ کمال احتیاط کے تقاضے پورے کرتے ہوئے حفظ کی گواہی بھی لیتے تھے۔لوگ حضرت زید بن ثابت کے پاس اس اعلان کے موافق آتے تھے۔مگر وہ کوئی ایک آیت بھی بغیر دوعا دل گواہوں کی گواہی کے نہیں لکھتے تھے۔(الاتقان فی علوم القرآن جزء اول النوع الثامن عشر في جمعه و ترتیبه صفحه 58) اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت عمر اور حضرت زید مختلف صحابہ کے پاس موجود تحریر شدہ قرآن کریم پر ہی اکتفا نہیں کر رہے تھے بلکہ خود حافظ قرآن ہونے کے باوجود تحریرات وحی بھی طلب کرتے اور حفاظ صحابہ کی گواہی بھی لیتے۔اس طرح حضرت زید حفظ اور تحریر، دونوں قسم کی کم از کم دو دو شہادتیں حاصل کرنے کے بعد ہر آیت احاطہ تحریر میں لاتے۔قرآن کریم کو اس طرح تحریر کرنے میں ایک تو حد درجہ احتیاط کا پہلو کارفرما تھا اور دوسرے اس سے قرآن کریم کی ایک ایسی عظیم الشان مصدقہ خدمت تھی جو اس سے قبل کسی کتاب کی نہ کی گئی تھی۔دو گواہیوں سے مراد تعداد کے لحاظ سے دو گواہیاں نہیں تھیں بلکہ دوستم کی گواہیاں تھیں۔ایک گواہی یہ لانی ہوتی تھی کہ کم از کم دو حفاظ ہوں جنہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حفظ کیا ہو یا آپ کے حضور اپنا حفظ پیش کر کے تصدیق کر والی ہو اور دوسری قسم کی گواہی یہ تھی کہ آیت کی کم از کم دو تحریرات پیش کی جائیں جو کہ بعد از تحریر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو چیک کروا کر مستند بنالی گئی ہوں۔اس طرح ہر آیت پر کم از کم چار گواہیاں اکٹھی کی جاتیں کہ یہ آیت بعینہ وہی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھا ئی تھی۔چنانچہ علامہ سیوطی فرماتے ہیں: قال ابن الحجر وكان المراد بالشاهدين الحفظ و الكتاب۔و قال السخاوي في جمال القراء المراد انهما يشهدان على ان ذلك المكتوب كتب بين يدى رسول الله ﷺ او المراد انهما يشهدان على ان ذالك من الوجوه التي نزل بها القرآن قال ابوشامة و كان عرضهم