اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 56 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 56

الذكر المحفوظ 56 حَدَّثَنِيْ عَامِرُ بْنُ وَايْلَةَ أَنَّ نَافِعَ بُنَ عَبْدِ الْحَارِثِ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ وَكَانَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ - فَسَلَّمَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِى فَقَالَ نَافِعٌ - : اِسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمُ ابْنُ أَبْرَى فَقَالَ عُمَرُ وَ مَنْ اِبْنُ أَبْرَى؟ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُ لَقَارِيٌّ لِكِتَابِ اللَّهِ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَدْ قَالَ إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ الدارمي كتاب فضائل القرآن باب ان الله يرفع بهذا القرآن اقواما ويضع آخرين) راوی کہتے ہیں کہ عامر بن واثلہ نے بیان کیا کہ نافع بن عبدالحارث حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو محسفان میں ملے۔حضرت عمرؓ نے انہیں اہل مکہ کا والی مقرر کیا ہوا تھا۔انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سلام کیا۔حضرت عمر نے ان سے دریافت فرمایا کہ آپ نے مکہ میں اپنا قائم مقام کس کو مقرر کیا ؟ نافع نے کہا۔میں نے ابنِ ابی کو اپنے قائم مقام کے طور پر مقرر کیا ہے۔حضرت عمرؓ نے دریافت فرمایا۔ابنِ انبری کون ہے؟ نافع نے عرض کی۔اے امیر المومنین ! وہ حافظ قرآن اور علم الفرائض کے ماہر ہیں۔اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارا فیصلہ درست ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کے طفیل بعض لوگوں کا مقام و مرتبہ بڑھائے گا اور بعض کو مقام و مرتبہ میں گرادے گا۔اسی طرح ایک دوسرے مقام پر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم قرآن کریم کا علم حاصل کرنے والوں کا مرتبہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں میں سے کچھ لوگ اہل اللہ ہوتے ہیں۔راوی کہتا ہے اس پر آپ سے دریافت کیا گیا۔یا رسول اللہ ! اہل اللہ کون ہوتے ہیں؟ آنحضور نے فرمایا۔قرآن والے اہل اللہ اور اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحه 128 مطبوعه بيروت) رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ کے جانثار صحابہ کے اس اسوہ پر چلتے ہوئے اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر اب تک امت محمدیہ کا نمونہ تو دنیا کے سامنے ہے ہی کہ کس طرح بچے کو چھوٹی عمر سے قرآن کریم کی تعلیم دی جاتی ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جاری کردہ سنت کے عین مطابق آج تک تواتر کے ساتھ تعلیم القرآن اور حفظ کا سلسلہ جاری ہے۔تعلیم القرآن اور حفظ قرآن کے مدر سے شہر شہر اور گاؤں گاؤں میں قائم ہیں۔دیہات ، قصبات اور شہروں میں چھوٹے جھوٹے مدرسوں کے علاوہ سکولوں کالجوں اور بڑی بڑی اسلامی اور