اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 50
الذكر المحفوظ 50 معلم القرآن تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ - (الجمعة: 3) یعنی وہی خدا ہے جس نے اُمی لوگوں میں انہی میں سے رسول بھیجا جو ان پر آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور الکتاب کی تعلیم دیتا ہے اور اس کی حکمت سکھاتا ہے۔چنانچہ کثرت سے روایات ملتی ہیں جن سے علم ہوتا ہے کہ آنحضور کس شوق اور تڑپ کے ساتھ صحابہ کو قرآن کریم کی تعلیمات اور ان کی حکمت سے آگاہ کرتے اور تعلیم و تدریس کا فریضہ سر انجام دیا کیا کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم القرآن کے سلسلہ میں نصائح اور اس راہ میں آپ کی عملی اور علمی سعی اور رہنمائی کا مختصر بیان کرنے کے لیے نمونہ کے طور پر چند روایات درج کی جاتی ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: كان رسول الله ﷺ يعلمنا القرآن (مسند احمد بن حنبل جلد 2 مسند عبد الله بن عمر صفحه 157) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قرآن کریم کی تعلیم دیا کرتے تھے۔کثرت سے ایسی روایات ملتی ہیں جن سے یہ گواہی ملتی ہے کہ بہت سے صحابہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وس سے قرآن کریم پڑھا تھا مثلاً حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ: والله لقد اخذت من فى رسول الله ﷺ بضعا و سبعين سورة (بخاری کتاب فضائل القرآن باب القراء من اصحاب النبي۔صله الله۔خدا کی قسم میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے منہ سے بہتر سے زائد سورتیں سیکھیں۔اسی طرح ذکر ملتا ہے کہ : ابی عمران سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور مبارک میں جبکہ ابھی ہم کھیلنے کودنے کی عمر کے بچے تھے، آپ (ﷺ) ہمیں پہلے ابتدائی ایمان کی باتیں سکھاتے پھر قرآن کریم کی تعلیم دیتے جس سے ہمارا ایمان پختہ ہوتا۔(مقدمه سنن ابن ماجه باب فی الایمان) حضرت عمر اور حضرت حکیم بن ہشام رضی اللہ عنہما کے واقعہ کا ذکر گزشتہ میں بھی ہو چکا ہے جس اس امر پر روشنی پڑتی ہے کہ کس طرح صحابہ قرآن کریم کی حفاظت کے حوالے سے ایک دوسرے کی نگرانی کیا کرتے تھے۔اس روایت سے یہ حقیقت بھی روشن ہوتی ہے کہ صحابہ براہِ راست رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔واقعہ کچھ یوں ہے: