اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 393 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 393

قرآن کریم کی معنوی محافظت 393 جواب یہ ہے کہ اس کی وجہ کورانہ تقلید بنی ہے۔ابتدا میں جب سخ کا لفظ استعمال کیا گیا تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا جو آج معروف ہو چکا ہے۔ابتدا میں نسخ سے مراد صرف یہ تھی کہ قرآن کریم کی ایک آیت کے جو معنی ہم سمجھتے تھے قرآن کریم کی ایک نئی نازل ہونے والی آیت نے یفسر بعضه بعضا کے مطابق اس کے وہ معانی کھول دیے ہیں جو حقیقی ہیں اور جو ہم سمجھتے تھے وہ معنی رد کر دیے ہیں۔پس وہ معنے منسوخ ہو گئے ہیں اور بہتر معانی عطا ہوئے ہیں۔یہی حقیقت مضمون کی ابتدا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں درج کی جاچکی ہے۔بعد میں آنے والوں نے اندھی تقلید کرتے ہوئے مسئلہ تو اپنا لیا مگر اس کے صحیح مفہوم کو اپنا نہ سکے۔واللہ اعلم۔بہر حال حقیقت جو بھی ہو یہ واضح ہے کہ اگر اس سارے مسئلہ کا تجزیہ کیا جائے تو عقل اسے دھکے دیتی ہے۔تاریخ بھی کوئی سہارا نہیں دیتی۔اگر کوئی دلیل بن سکتی ہے منسوخ شدہ آیت کی تو یہ ہی بن سکتی ہے اور ہمیشہ مختلف الفاظ کے جامے میں لپیٹ کر یہی بنائی گئی ہے کہ فلاں آیت چونکہ سمجھ میں نہیں آتی اس لیے منسوخ ہے۔یا فلاں آیت باقی قرآنی آیات کے متضاد معلوم ہوتی ہے اس لیے منسوخ ہے۔پس سمجھ نہیں آتی تو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر متضاد معلوم ہوتی ہے تو یہ بھی فہم قرآن کی کمی ہے کیوں کہ قرآن کریم کا تو یہ دعویٰ ہے کہ قرآن کریم میں کچھ اختلاف نہیں ہے۔اللہ فرماتا ہے کہ اگر اختلاف ہوا تو سمجھ لو کہ قرآن خدا کی طرف سے نہیں۔یہ تو کہیں نہیں فرمایا کہ اگر اختلاف ہو تو ایک آیت کو منسوخ قرار دے لو۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عدم علم سے عدم سے لازم نہیں“ اور اسی حقیقت کے برعکس پر ناسخ اور منسوخ کے مسئلہ کی بنیاد ہے۔یعنی اس مسئلہ کی بنیاد کسی حقیقت پر نہیں بلکہ عدم علم اور کم نہی پر ہے اور یہ وہ واحد مسئلہ ہے کہ جس کی بنیاد بر ملاطور پر نا بھی اور جہالت پر رکھی گئی ہے اور باقائدہ اقرار کیا جاتا ہے کہ فلاں آیت چونکہ سمجھ نہیں آئی اس لیے منسوخ ہے۔الفاظ جو بھی ہوں مفہوم یہی ہوتا ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو امام الزماں حکم و عدل علیہ السلام کے کے اس فیصلہ کے بعد عقیدہ نسخ فی القرآن کا سب سے بڑا علمبر دار وہی ہو گا جسے سب سے کم آیات کا فہم نصیب ہوگا اور قرآن مجید کی تفسیر سے سب سے زیادہ ناواقف اور قرآنی تعلیمات کے عرفان سے سب سے زیادہ دور ہوگا۔