اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 394 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 394

الذكر المحفوظ 394 قرآن کریم کی دائمی حفاظت کا وعدہ ہے ابن و راق اور اس قماش کے باقی لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی بشارت ہے جو یقیناً اس کے ہوش اُڑا دے گی اور یہ نوید سنادے گی کہ جو انجام گزشتہ ادوار میں قرآن کریم کے بارہ میں شک پیدا کرنے والوں کا ہوا وہی تمہار بھی ہے۔ناکامی، نامرادی اور ذلت وہ خوشخبری یہ کہ آئندہ زمانہ میں بھی قرآن کریم کی حفاظت پر کوئی آنچ آئے اس بات کا دُور دُور تک کوئی امکان نہیں۔جو کتاب اب اتنی کثرت سے شائع ہوتی ہے، سب سے زیادہ پڑھی جاتی ہے ، لاکھوں حفاظ موجود ہیں، ساری دُنیا میں تلاوت کرنے والے موجود ہیں ، وہ کس طرح بدلی جاسکتی ہے؟ ناممکن ہے۔یہ تو عام دنیاوی حالات دیکھ کر ایک تسلی ملتی ہے۔اس کے علاوہ ایک اور بشارت بھی ہے ابن وراق کے لیے۔قرآن کریم کی حفاظت کرنے والا سب سے بڑھ کر قادر اور توانا خدا اس کی حفاظت پر نگران ہے۔کیسے ممکن ہے کہ نادانستہ بشری کو تا ہی یا دانستہ بشری کوشش اس میں کوئی کمی یا بیشی یا کوئی تغیر یا تبدل کر سکے۔یہ کلیہ ناممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی معنوی حفاظت کا بھی ایک بے نظیر انتظام یہ فرمایا کہ امت محمدیہ سے یہ عہد کیا کہ ہر دور میں اور ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے ایسے کامل افراد کو پیدا کرتارہے گا جو خدا تعالیٰ سے براہ راست را ہنمائی پا کر قرآن کریم کی صحیح تعلیم کی اشاعت کرتے رہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” ہم نے ہی اس کتاب کو اتارا اور ہم ہی اس تنزیل کی محافظت کریں گے۔اس میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ کلام ہمیشہ زندہ رہے گا اور اس کی تعلیم کو تازہ رکھنے والے اور اس کا نفع لوگوں کو پہنچانے والے ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے۔“ (شہادت القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 338) اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ اللہ جل شانہ، قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُون یعنی ہم نے ہی اس کتاب کو اتارا اور ہم ہی اس تنزیل کی محافظت کریں گے اس میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ کلام ہمیشہ زندہ رہے گا اور اس کی تعلیم کو تازہ رکھنے والے اور اس کا نفع لوگوں کو پہنچانے والے ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے اور اگر یہ سوال ہو کہ قرآن کے وجود کا فائدہ کیا ہے جس فائدہ کے وجود پر اس کی حقیقی حفاظت موقوف ہے تو اس دوسری آیت سے ظاہر ہے هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ - [الجمعة: 3] اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے بڑے فائدے دو ہیں جن کے پہنچانے کے لیے آنحضرت صلی اللہ