اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 387
387 قرآن کریم کی معنوی محافظت قرآن کریم کے نسخ کے عقیدہ پر قائم لوگ اس بارہ میں کوئی ایسی دلیل پیش نہیں کرتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہو کہ فلاں آیت منسوخ ہے۔یہ بہت حیرت کی بات ہے کہ قرآن کریم میں اتنی کثرت سے ناسخ منسوخ موجود ہو لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بارہ میں کوئی رہنمائی نہ فرما ئیں۔پس قائلین نسخ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی کے بغیر محض استدلال کرتے ہیں جس میں ان کی اپنی سوچ کارفرما ہوتی ہے۔اور یہ استدلال قرآن کریم کے معانی کے عدم فہم یا عدم علم کی وجہ سے ہوتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وقتی احکام اور شرائع منسوخ ہوتی ہیں۔مگر قرآن کریم جو کہ ایک دائمی شریعت ہے اس کی طرف اس یہ بات منسوب کرنا واقعی معیوب ہے۔پھر اس سے بڑھ کر معیوب بات یہ ہے کہ کوئی شخص قرآن کریم کے بارہ میں یہ عقیدہ رکھے کہ اس میں بعض الفاظ تو موجود ہیں مگر وہ قابل پیروی نہیں کیوں کہ منسوخ ہیں اور اپنے اس قول کی تائید میں کوئی وحی پیش نہ کرے بلکہ اپنا قیاس پیش کرے۔اس سے گمراہی کا بہت بڑا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے اور قرآن کریم کا کوئی اعتبار باقی نہیں رہتا۔پس قرآن کریم کی اس آیت میں عموماً مفسرین غلطی کھاتے ہیں جو یہ ترجمہ کرتے ہیں کہ جو آیت اللہ نے قرآن کریم میں اتاری ہے وہ منسوخ بھی ہوسکتی ہے اور ہم اس سے بہتر آیت لا سکتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں ناسخ منسوخ کا بہت لمبا جھگڑا چل پڑا۔مفسرین نے تقریبا پانچ سو آیات کو ناسخ اور پانچ سو آیات کو منسوخ قراردے دیا۔حالانکہ قرآن کریم کا ایک شعشہ بھی منسوخ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے وقت تک یہ ساری ناسخ و منسوخ آیات حل ہو چکی تھیں سوائے پانچ کے اور حضرت مسیح موعود کے علم کلام کی برکت سے یہ پانچ آیات بھی حل ہو گئیں۔جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم کا ایک شععہ بھی منسوخ نہیں۔یہاں آیت سے مراد پہلی شریعتیں ہیں جب بھی وہ منسوخ ہوئیں یا بھلا دی گئیں تو ویسی ہی یا اُن سے بہتر نازل کر دی گئیں۔انسانی دماغ کے کئی مدارج ہیں۔بعض دماغ ایک بات کو سمجھتے ہیں اور بعض نہیں سمجھتے۔اگر انسانی دماغ کی سمجھ پر اس بات کی بنیا د رکھی جائے کہ کون سی آیت منسوخ ہے اور کون سی آیت منسوخ نہیں تو ایک لحاظ سے سارا قرآن ہی منسوخ ماننا پڑے گا کیوں کہ کسی حصہ کو کوئی نہیں مانتا اور کس کو کوئی نہیں مانتا۔جس کی سمجھ میں سو آیات نہ آئیں اس نے سومنسوخ قرار دے دیں اور جس کی سمجھ میں ہزار نہ آئیں اس نے ہزار آیات منسوخ قراردے دیں۔چنانچہ اس کی امر مثال کہ بعض آیات کو اس لیے منسوخ کہا جاتا ہے کہ وہ بظاہر دوسری آیات کے مخالف نظر آتی ہیں ، ہم مولوی مودودی کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں: آپ رقم طراز ہیں: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة: 257 ) یعنی دین میں جبر نہیں مگر اس واضح آیت کے ہوتے ہوئے بھی بعض مسلمان دین میں جبر کو