اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 294 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 294

الذكر المحفوظ 294 اجتماع کی وجہ سے ایک قبیلہ کی لغت کو کوئی دوسرے قبلہ کا شخص سیکھ جائے۔حج کے دنوں میں تو سارے عرب کے قبائل مکہ میں جمع ہوتے تھے اس لیے قریش کے لوگوں کی دوسرے عرب قبائل کی لغات سے واقفیت کوئی اچھنبے کی بات نہیں اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت حکیم بن ہشام اپنے قبیلہ کی لغت کے ساتھ ساتھ دوسرے کسی قبیلہ کی لغت کے بھی ماہر ہوں۔حضرت عمرؓ نے بھی قرآن کریم کے حوالہ سے حساس رویہ دکھایا۔روایت سے کوئی ایسا نتیجہ تو نہیں نکلتا کہ آپ اُس لغت سے واقف ہی نہ ہوں۔ہاں اس رویہ سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت آپ اس اجازت سے واقف نہ تھے۔گویا یہ اجازت اس واقعہ کے تھوڑا پہلے ہی ہوئی تھی۔عین ممکن ہے کہ یہ اجازت ایک دن پہلے ہوئی ہو۔کیونکہ روایات میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ حضرت عمرؓ ایک دن چھوڑ کر ایک دن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔آپ نے ایک اور صحابی کے ساتھ یہ معاہدہ کر رکھا تھا کہ ایک دن وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور حاضر رہیں گے اور حضرت عمر کو اُس دن کے واقعات سے آگاہ کریں گے اور ایک دن حضرت عمر پیارے آقا کی صحبت میں رہیں گے اور اُن صحابی کو اہم واقعات سے آگاہ کریں گے۔ہوسکتا ہے جس دن اختلاف قراءت کی اجازت ہوئی ہو اُس دن دوسرے صحابی کی باری ہو اور یا تو وہ اپنی باری والے روز رسول کریم کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکے ہوں اور یا پھر اُن کی حضرت عمرؓ سے ملاقات نہ ہوئی ہو۔واللہ اعلم۔پس حضرت عثمان نے اپنے دور میں بوجوہ اس اختلاف کو ختم کرنے کا حکم جاری کردیا اور استثنائی حالات میں آسانی کی خاطر دی گئی اس اجازت کو موقوف کر دیا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ طریق فائدہ مند تھا اور سب سے بڑھ کر منشاء الہی کے مطابق تھا تو پھر کیوں بعد میں اس انداز کوختم کر دیا گیا؟ اس کی وجہ یہ بنی کہ حضرت عثمان کے زمانہ میں اسلام عرب اور غیر عرب بہت سے علاقوں میں پھیل چکا تھا۔حضرت عثمان کے دور تک تو مختلف قبائل اپنی اپنی قراءت میں آسانی سے قرآن کریم کی درس و تدریس اور اشاعت کر لیتے تھے۔مگر جب مختلف قبائل کے لوگ آپس میں ملتے تو ان میں سے وہ جو دوسرے قبیلہ کی زبان کا گہرائی سے علم رکھتے تھے، الجھ جاتے اور سمجھ بیٹھتے کہ گویا قرآن کریم کی غلط تلاوت کی جارہی ہے۔یہ مسئلہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سامنے آتا تو آپ سمجھا دیتے اور اس بارہ میں اختلاف کرنے سے منع فرماتے۔لیکن حضرت عثمان کے دور میں کثرت اختلاف اور نومسلم عربوں کی مشکلات حل کرنے کے لیے یہ بہتر سمجھا گیا کہ اب ایک قراءت ہونی چاہیئے۔پھر اختلاف قراءت کو ختم کرنے کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ بہت سی دوسری اقوام کے اسلام قبول کرنے کے باعث قرآن کریم عرب کے قبائل سے باہر نکل کر عالمی تعلیم کے طور پر رائج ہورہا تھا اور غیر عرب نومسلموں کے لیے اختلاف قراءت کے باعث قرآن کریم سیکھنا دشوار تھا اور نہ صرف دشوار تھا بلکہ عربوں کی نسبت زیادہ غلط فہمی کا امکان تھا