اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 15
عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 15 نے ابتدائی ایامِ نبوت سے ہی وہی قرآن تحریر کروانا شروع کر دی تھی۔اس حقیقت کو متقین تسلیم کرتے ہیں۔ایام قرآن کر دی اس حقیت تقی کر مشہور مستشرق اور رومن کیتھولک من کیرم آرمسٹرانگ لکھتی ہیں: جب بھی کوئی آیت پیغمبر اسلام پر نازل ہوتی ، آپ اسے بلند آواز میں صحابہ کرام کو سناتے جو اسے یاد کر لیتے اور جو لکھنا جانتے تھے ، اسے لکھ لیتے۔( محمد : باب دوم ، صفحہ 61 پبلشرز علی پلاز 30 مزنگ روڈ لا ہور ) اس سلسلہ میں بہت سے دلائل ملتے ہیں جنہیں مختلف انواع میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ذیل میں چند ایک دلائل درج کیے جاتے ہیں۔قرآن کریم سے ثبوت ایک بہت بڑی گواہی اس بات کی کہ نزول کے ساتھ ساتھ قرآن کریم تحریر کیا جارہا تھا، قرآن کریم سے یہ ملتی ہے کہ قرآن کریم کی پہلی وحی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (العلق : 2) یعنی اپنے رب کے نام سے پڑھ جس نے پیدا کیا ہے یہ پہلی وحی ہے اس لیے ظاہر ہے کہ جب یہ نازل ہوئی اس وقت وہی قرآن کی کوئی تحریری صورت نہ تھی اس لیے اِقْرَأْ الْكِتَابَ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِی خَلَقَ نہیں کہا گیا۔مگر اس کے بعد باقاعدہ کتاب کے لفظ کا استعمال قرآن کریم نے شروع کر دیا۔گویا پہلی وحی کے بعد اسے تحریری شکل میں محفوظ کرتے ہی قرآن کریم کا ایک تحریری وجود تشکیل پانے لگا جس پر لفظ کتاب کا اطلاق ہوتا تھا۔اگر ایسانہ ہوتا تو ضرور مخالفین رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر یہ اعتراض کرتے کہ کتاب کا ذکر تو کرتے ہیں مگر کتاب نظر نہیں آتی۔چنانچہ بار بار یہ لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے اور ابتدائی دور میں کسی دوست یا دشمن نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ یہ غلط بیانی کی جارہی ہے۔قرآن کریم تو تحریری شکل میں موجود ہے ہی نہیں پھر کیوں کر اسے کتاب کہا جارہا ہے؟ سورۃ الفرقان میں کفار کا قول محفوظ کیا گیا ہے کہ اُن کو علم تھا کہ قرآن کریم کی تحریر کا کام زور وشور سے جاری ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا (الفرقان :6) اور وہ کہتے ہیں کہ یہ تو گزشتہ لوگوں کے قصے ہیں جو اس نے لکھوا لیے ہیں اور دن رات اس کے سامنے ان کی املا کروائی جاتی ہے۔سورة الفرقان سورۃ مریم سے قبل نازل ہوئی تھی۔(البرھان فی علوم القرآن جزء اول صفحہ 193 ) اور سورۃ مریم چار نبوی کے آخر میں نازل ہونے والی سورت ہے جو پہلی ہجرت حبشہ سے قبل نازل ہو چکی تھی کیونکہ