اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 270
الذكر المحفوظ 270 نے ان کا نسخہ قرآن مانگا تو حضرت عائشہؓ نے پس و پیش کیا۔(بخاری کتاب جمع القرآن باب تاليف القرآن) ڈاکٹر صبحی صالح اپنی کتاب علوم القرآن میں اس ضمن میں ایک دوسری مثال پیش کرتے ہیں: بعض صحابہ نے اپنے ذاتی نسخوں میں بعض آیات کی وہ تفسیر بھی رقم کر رکھی تھی جو انہوں نے بذات خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔اس کی مثال یہ ہے کہ آیت قرآنی: لیس عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّكُمُ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓا اپنے ذاتی نسخہ میں في مواسم الحج “ کے الفاظ بڑھا لیا کرتے تھے جس کا مطلب ہے کہ اس آیت میں اجازت دی گئی ہے کہ حج کے دنوں میں تجارت کر کے مالی فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ یہ الفاظ ایضاح و تفسیر کے لیے لکھے گئے تھے کیونکہ قرآن کریم کے جس نسخہ پر امت کا اجماع ہوا ہے اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ابن الجرزی اس پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں: و بعض اوقات تفسیری کلمات کو ایضاح و تفسیر کے لیے قراءت میں شامل کر لیا جاتا تھا اس لیے کہ صحابہ نے بذات خود آنحضور سے قرآن سُنا تھا۔بنا بریں انہیں یہ خطرہ لاحق نہ تھا کہ تفسیری کلمات قرآنی الفاظ کے ساتھ مخلوط ہو جائیں گے۔بعض صحابہ تفسیر پر مشتمل الفاظ کو اپنے ذاتی نسخہ میں لکھ لیا کرتے تھے۔مثلاً حضرت عائشہ نے ایسا کیا ہوا تھا۔“ ( بار چہارم 1993 : باب دوم فصل اول ، عہد عثمان میں جمع تدوین، صفحہ 123) تحریر کا عام رواج نہ ہونے کی وجہ سے لکھنے والوں کو آداب تحریر سے گہری واقفیت بھی نہیں تھی اور نہ ہی عام طور پر لوگ پڑھنا جانتے تھے۔اس لیے نا واقف انسان کے لیے سمجھنا مشکل ہو سکتا تھا کہ قرآن کریم کی آیت کہاں تک ہے اور کہاں سے حاشیہ شروع ہوتا ہے اسی لیے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ حکم دے دیا تھا کہ قرآن کریم کی تحریر کو محفوظ کرنے کی خاطر اُن کے ساتھ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اقوال کو نہ لکھا جائے تا کہ خلط ملط ہونے کا اندیشہ نہ رہے۔چنانچہ آپ نے ایک مرتبہ اپنی حیات مبارکہ میں ہی ایسی تحریرات نذر آتش کروادی تھیں جن میں آپ کے فرمودات تحریر کیے گئے تھے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باریک بین نظر نے دیکھ لیا تھا کہ ایسی تحریرات جن میں قرآن کریم کی آیات کے ساتھ تفسیر کے طور پر آپ کے فرمودات درج ہیں شک کا باعث بن سکتی ہیں۔اس فرمان اور سنت کے مطابق حضرت عمرؓ نے اپنے عہد خلافت میں اس قسم کی تحریرات کو تلف کرا دیا تھا تا کہ کسی قسم کا کوئی شک پیدا نہ ہو۔(عبد الصمد صارم الازھری : تاریخ القرآن، ایڈیشن 1985 ندیم یونس پرنٹرز لاہور، پبلشرز : مکتبہ معین الادب اردو بازار لاہور صفحہ 104) پھر صحابہ اپنے اپنے قبیلہ کی قراءت کے مطابق قرآن لکھتے تھے اور یہ بھی رسول کریم کی اجازت سے تھا۔ایک ناواقف انسان اس سے بھی