اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 12 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 12

الذكر المحفوظ 12 عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن قرآن کریم حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ساڑھے بائیس سال سے زائد عرصہ میں نازل ہوا۔نزول کی یہ انتہائی معمولی رفتار قرآن کریم کی ایک ایسی خصوصیت ہے جس کے بے شمار فوائد اور حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ان میں سے ایک فائدہ حفاظت کے ذرائع کے حوالہ سے بھی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: و قُرْآنًا فَرَقْنهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاس عَلى مُكْثٍ وَ نَزَّلْنَهُ تَنْزِيلًا (بنی اسرائیل : 107) ترجمہ: اور قرآن وہ ہے کہ ہم نے اسے ٹکڑوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ تو اسے لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور ہم نے اسے بڑی قوت اور تدریج کے ساتھ اتارا ہے علامہ زرکشی لکھتے ہیں کہ قرآن مجید کا زمانہ نزول بائیس سال پانچ ماہ اور چودہ دن ہے۔( بدرالدین محمد بن عبد الله الزرکشی : البرهان فی علوم القرآن۔الجزء الاول صفحہ 314 ناشر دار احياء الكتب العربية ،مصر) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ اپنی ایک تحقیق یہ بیان فرماتے ہیں کہ نزول کی اوسط رفتار، فی آیت روزانہ بھی نہیں بنتی کیونکہ ایام نبوت تقریباً 7970 بنتے ہیں۔جبکہ آیات قرآنی 6236، الفاظ کی تعداد 77934 ہے۔اس لحاظ سے فی آیت اوسطاً 12 الفاظ بنتے ہیں جبکہ نزول روزانہ اوسطاً 9 الفاظ کا ہوا۔ہر آیت یا کسی بھی قرآنی حصہ کے نزول کے ساتھ ہی آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم فوری طور پر مقررشدہ لوگوں میں سے کسی کا تب کو بُلا کر اس نئی نازل ہونے والی وحی کو اپنی نگرانی میں تحریری شکل میں بھی محفوظ کروا لیتے اور صحابہ کو حفظ بھی کروا دیتے۔آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حافظہ اور عربوں کا حافظہ ذہن میں رکھ کر جب غور کریں کہ اس شان کے حافظہ کے ساتھ اتنی کم رفتار سے نازل ہونے والا قرآن جو نزول کے وقت ہی تحریر کے ساتھ ساتھ حفظ کی صورت میں سینوں میں بھی محفوظ ہوتا جار ہا تھا اور دن رات اس کی درس و تدریس کا ایک سلسلہ جاری رہتا جس کی نگرانی آپ کرتے تھے ، تو معلوم ہوتا ہے کہ ناممکن ہے کہ کوئی لفظ بھی محفوظ ہونے سے رہ جا تا۔نزول کی اوسط رفتار نکالنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ اندازہ ہو سکے کہ قرآن کریم کے نزول کی رفتار عام طور پر اتنی کم تھی کہ اس کی حفاظت اور اشاعت کرنے کے حوالہ سے کسی قسم کی مشکل پیش نہیں آتی تھی۔بلکہ انتہائی آسانی سے یہ تمام مراحل طے پاجاتے تھے اور ہنگامی بنیادوں یا جلد بازی سے کاموں میں جو سقم رہ جایا کرتے ہیں، یہ کتاب ان سے بکتی پاک تھی۔یہ انداز نزول اپنے اندر بہت سی حکمتیں سموئے ہوئے ہے جن کا محافظت قرآن سے براہِ راست تعلق