اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 245
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 245 کے متعلق انسانی قلب میں پیدا ہو نیوالے تمام وساوس اور شبہات کا ازالہ کرتا ہے۔مثلاً جنگ ہے اس کے متعلق جو سوال پیدا ہونگے ان کو بیان کر لگا پھر ان سے جو سوال پیدا ہوگا وہ بیان کرتا چلا جائیگا اور چونکہ ایسے سوالات طبعی ہوتے ہیں اس لیے ان کے جوابات کا قلوب پر خاص اثر پڑتا ہے اسی طبعی ترتیب سے اس جگہ بھی کام لیا گیا ہے۔چنانچہ جنگ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کا ذکر کر دیا جو جنگ سے براہ راست تعلق رکھنے والی چیزیں تھیں اور جب جوئے سے اخراجات جنگ پورے کرنے کے طریق سے روک دیا تو طبعی طور پر یہ سوال پیدا ہوا کہ پھر یہ اخراجات کس طرح پورے ہونگے اس کے لیے بتایا کہ ضرویات زندگی پوری کرنے کے بعد جور قم بچ رہے وہ خرچ کرنی چاہیے پھر ایک ہی لفظ عفو استعمال کر کے اس میں مختلف مدارج کا ذکر کر کے بتایا کہ ادنیٰ درجہ کون سا ہے اور اعلیٰ درجہ کونسا۔اس کے بعد یتامیٰ کے حقوق کو لے لیا۔کیونکہ جنگ کے بعد لازماً اس سوال نے اہمیت اختیار کر لینی تھی۔غرض قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ اس نے اپنے مضامین میں ایک ایسی اعلیٰ درجہ کی ترتیب رکھی ہے جو فطرت انسانی کے عین مطابق ہے ادھر ایک سوال فطرت انسانی میں پیدا ہوتا ہے اور ادھر قرآن کریم میں اس کا جواب موجود ہوتا ہے۔( تفسیر کبیر جلد دوز بر آیت البقرة : 222 صفحہ 499) نظام ترتیب قرآن، قوانین قدرت کے مطابق ہے اسی طرح قرآن کریم کے مضامین کی ایک ترتیب قوانین قدرت کے مطابق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآن کریم کی اس قسم کی ترتیب کے بارہ میں ان الفاظ میں راہنمائی عطا فرماتے ہیں: قرآن کریم اخلاقی تعلیم میں قانونِ قدرت کے قدم بہ قدم چلا ہے۔رحم کی جگہ جہاں تک قانون قدرت اجازت دیتا ہے رحم ہے اور قہر اور سزا کی جگہ اسی اصول کے لحاظ سے قہر اور سزا اور اپنی اندرونی اور بیرونی تعلیم میں ہر ایک پہلو سے کامل ہے اور اس کی تعلیمات نہایت درجہ کے اعتدال پر واقعہ ہیں جو انسانیت کے سارے درخت کی آب پاشی کرتی ہیں نہ کسی ایک شاخ کی۔اور تمام قومی کی مربی ہیں نہ کسی ایک قوت کی اور درحقیقت اسی اعتدال اور موزونیت کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا ہے۔كِتَابًا مُّتَشَابِهًا (الزمر: 24 ) پھر بعد اس کے مَثَانِيَ کے لفظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات معقولی اور روحانی دونوں طور کی روشنی اپنے اندر رکھتی ہیں۔کرامات الصادقین۔روحانی خزائن۔جلد 7 صفحہ 59-58)