اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 244 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 244

الذكر المحفوظ 244 ہی نازل کرتے ہیں۔پس ہر ایک زمانہ کی ضرورت کے تمام مضامین قرآن کریم کی آیات میں اپنی اپنی ترتیب کے مطابق ایک دوسرے کے متوازی چل رہے ہوتے ہیں۔مضامین کے غیر محدود ہونے کی وجہ سے ان کی ترتیب کا تنوع بھی غیر محدود ہے۔یہ قرآنی مضامین حسب حالات اور حسب موقع گہری نظر سے مطالعہ کرنے پر ہی منکشف ہوتے ہیں اور سرسری مطالعہ کرنے والے کو نصیب نہیں ہو سکتے۔اسی طرح بار بار مطالعہ کرنے سے وہ مضامین بھی منکشف ہوتے ہیں جو ایک بار مطالعہ کرنے سے نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔پھر ایک خاص نکتہ نظر سے مطالعہ کیا جائے یا کسی خاص مضمون پر توجہ مرکوز ہو تو دوسرے مضامین نظر سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔چونکہ اس کتاب کا منبع ایک غیر محدودسر چشمہ علم ہے اس لیے جتنا بھی مطالعہ کیا جائے ، محدود قومی اور محدود علم کے انسان کے لیے ہر بار اس میں نئے سے نئے علوم کی طرف راہنمائی ہوگی اور ہر شخص اس سے بقدر استطاعت فائدہ تو اُٹھا سکتا ہے مگر آگے بڑھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں ضروری مضمون قرآن کریم میں بیان نہیں ہے۔قرآن کریم مضمون کو اس کی طبیعی ترتیب سے بیان فرماتا ہے قرآن کریم اپنے بیان میں اول سے آخر تک مضمون کو اس کی طبعی ترتیب سے بیان کرتا ہے۔چنانچہ پہلی ہی سورت ،سورۃ الفاتحہ سے ہی یہ ترتیب ملتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِلِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔اس جگہ سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفتیں بیان فرمائیں۔یعنی رب العالمین۔رحمان۔رحیم۔مالک یوم الدین اور ان ہر چہار صفتوں میں سے رب العالمین کو سب سے مقدم رکھا اور پھر بعد اس کے صفت رحمان کو ذکر کیا۔پھر صفت رحیم کو بیان فرمایا۔پھر سب کے اخیر صفت مالک یوم الدین کو لائے۔پس سمجھنا چاہیے کہ یہ ترتیب خدائے تعالیٰ نے کیوں اختیار کی ؟ اس میں نکتہ یہ ہے کہ ان صفات اربعہ کی ترتیب طبعی یہی ہے اور اپنی واقعی صورت میں اسی ترتیب سے یہ مفتیں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 444 حاشیہ نمبر 11) حمدیہ 1 المصل حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ مسیح الثانی مصلح موعود رضی اللہ عنہاس بارہ میں فرماتے ہیں: در حقیقت قرآنی مضامین کی ترتیب عام کتب کی ترتیب کے مطابق نہیں بلکہ طبعی ترتیب ہے وہ اپنے مضامین میں جو تر تیب رکھتا ہے وہ اس ترتیب سے علیحدہ ہے جو انسان اپنی کتابوں میں رکھتے ہیں۔قرآن کریم اس چیز کو جو سب سے پہلے بیان ہونی ضروری ہو بیان کرتا ہے اور پھر اس