اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 205
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 205 پھر ابن وراق کا یہ کہنا بھی جہالت کی حد ہے کہ " جس کسی نے بھی قرآن کریم جمع کیا ہے اس نے زیادہ لبی سورتیں شروع میں رکھی ہیں۔اس بات میں ایک ذرہ بھی شک نہیں اور یہ حقیقت بہت عام فہم تاریخی عقلی اور نقلی دلائل سے ثابت شدہ اور نا قابل تردید ہے کہ جمع قرآن کا کام خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نگرانی اور آپ کے دور میں ہوا تھا۔یہ کام اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لیا تھا اور خود اپنی جناب سے اس کے سامان کیے تھے۔چنانچہ قرآن کریم کی ہر قسم کی ترتیب خدا تعالیٰ کی راہنمائی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی نے لگائی تھی۔پس اس صورت میں تو وہ اعتراض بھی باقی رہتا ہی نہیں جس کی ابنِ وراق نے یہ جھوٹی بنیاد بنائی تھی کہ قرآن جس نے بھی جمع کیا ہے اس ترتیب کے مطابق نہیں کیا جس کے مطابق کہا جاتا ہے کہ اللہ نے نازل کیا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ، جس نے قرآن نازل کیا ہے اس نے جمع کیا اور اُسی نے اس کی دائمی ترتیب، نزول کی ترتیب سے ہٹ کر لگائی ہے۔پس بشمول آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص نے ترتیب نہیں بدلی بلکہ خود خدا نے بدلی ہے۔اس پر کون اعتراض کر سکتا ہے؟ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ زیادہ لمبی سورتیں شروع میں رکھی ہیں۔تو یہ بات بھی غلط ہے۔یعنی جھوٹی بنیاد بنا کر جو بات کی وہ بات بذات خود غلط ہے۔سورتوں کی ترتیب ایسی نہیں ہے جیسا کہ بیان کر رہا ہے۔سورتوں کی تریب کے بارہ میں ابن وراق ہی نہیں بلکہ اکثر مستشرقین بلاسوچے سمجھے ایک دوسرے کی تقلید میں یہ کہ دیا کرتے ہیں اور کئی کورانہ تقلید کرنے والے مسلمان بھی اس غلطی کو دہرا دیتے ہیں۔حضرت مرزا بشیر الدین لمصل محمود احمد صاحب خلیفہ المسیح الثانی اصلح الموعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: یہ دعویٰ ایک نہایت لغو اور حقیقت سے دُور دعوی ہے۔کیونکہ (۱) قرآن کریم کی سورتوں کی موجودہ ترتیب خود اس دعوی کو باطل کرتی ہے۔پہلی سورۃ فاتحہ ہے جو نہایت چھوٹی اور سات آیتوں کی سورۃ ہے۔دوسری بقرۃ نہایت لمبی ہے۔تیسری آل عمران ہے جس کے ہیں رکوع ہیں لیکن چوتھی نساء کے چوبیں رکوع ہیں اسی طرح اگلی سورتوں میں بھی کئی جگہ فرق ہے۔پس یہ کہنا کہ لمبائی کے مطابق سورتوں کو آگے پیچھے رکھ دیا گیا ہے درست نہیں۔(۲) قرآن کا جمع کرنا کسی بندہ کا فعل نہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بھی فعل نہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اِنَّ عَلَيْنَا جَمُعَهُ وَ قُرْآنَة (القيامة رکوع ۱ ) [18] یعنی قرآن کریم کا جمع کرنا اور اس کا دُنیا میں پھیلانا یہ دونوں کام میں خود کروں گا اور میرے خاص حکم اور نگرانی سے یہ کام ہوں گے۔پس ایک مسلمان کے نزدیک تو یہ انسانی کام ہو ہی نہیں سکتا اور غیر مسلموں کے لیے وہ جواب ہے جو