اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 194 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 194

الذكر المحفوظ 194 کہ قرآن کریم کی ترتیب کبھی بدلی گئی ہو۔پس حضرت ابو بکڑ نے ترتیب قرآن کے باب میں کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھایا جو نیا تھا بلکہ ترتیب قرآن کے ضمن میں کوئی نیا قدم اُٹھایا ہی نہیں۔حضرت عثمان کے زمانہ میں بھی قرآن کریم کی ایک قراءت پر امت کو جمع کرتے وقت بھی ترتیب کی کوئی بحث نہیں اُٹھی اور وہی ترتیب برقرار رکھی گئی جو پہلے سے چلی آرہی تھی۔غور طلب امر یہ ہے کہ اختلاف قراءت پر تو صحابہ میں بحثیں اُٹھیں جو آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ثابت تھا تو کیا ترتیب بدلنے پر صحابہ خاموش رہ سکتے تھے؟ ضرور اس کا ذکر بھی روایات میں آنا چاہیے تھا۔ضرور ذکر ملنے کی بات کس درجہ مضبوط ہے اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جو اسلامی روایات کا کچھ مطالعہ رکھتا ہے۔اہل علم جانتے ہیں کہ اسلامی تاریخ میں کسی چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی مؤرخین اور راویوں نے ذکر کیے بغیر نہیں چھوڑا اور اس کا اعتراف مستشرقین بھی کرتے ہیں۔پس کیسے ممکن ہے کہ اتنے باریک بین مؤرخین اور راوی ترتیب قرآن کے ضمن میں اتنی اہم بحث کو کلیہ بھول جاتے اور دوسری طرف ایسے مخالفین بھی خاموش ہیں جن کی مخالفت کی مثال تاریخ مذاہب دینے سے قاصر ہے اور ترتیب کے ضمن میں ابتدائی دور میں جبکہ ترتیب کی بحث اُٹھنی چاہیے تھی، کوئی اعتراض نہیں کرتے اور باوجود اس کے کہ قرآن ترتیب نزولی کے لحاظ سے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد تیار تھا ( حضرت علی نے قریباً چھ ماہ کے عرصہ میں یہ نسخہ تیار کیا تھا پھر بھی امت محمدیہ میں کوئی اختلاف تو کیا سرسری سا بھی ذکر نہیں ملتا کہ یہ آواز اُٹھی ہو کہ قرآن کی ترتیب، ترتیب نزولی ہونی چاہیے اور بلا وجہ بدلنی نہیں چاہیئے۔حضرت علیؓ جنہوں نے ترتیب نزول کے مطابق قرآن کریم کا نسخہ تیار کیا تھا کو بھی حضرت ابوبکر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے کام سے پورا اتفاق تھا۔(روح المعانی جلد اول زیر عنوان جمع القرآن صفحه 23 مکتبہ امدادیہ ملتان) پس ثابت ہوا کہ یہ واضح حقیقت تھی اور گویا صحابہ کا اس پر اجماع تھا کہ قرآن کریم کی سورتوں کی ایک دائمی ترتیب ہے اور وہ ترتیب، ترتیب نزولی نہیں ہے اور وہی دائمی ترتیب رسول کریم سے لے کر اب تک رائج ہے اور اس کے بدلنے کا سوال کبھی نہیں اُٹھا۔علامہ سیوطی ابو بکر بن انباری کا قول درج کرتے ہیں: قال ابو بکر بن الانباری انزل الله القرآن كله الى سماء الدنيا ثم فرقه في بضع و عشرين فكانت السورة تنزل لامر يحدث والآية جوابا لمستخبر و يوقف جبريل النبي ﷺ على موضع الآية والسورة فاتساق السور كاتساق الآيات و الحروف كله عن النبي ﷺ فمن قدم سورة او اخرها فقد افسد نظم القرآن۔(اتقان في علوم القرآن نوع ثامن عشر جمعه و ترتیبه، فصل سوم صفحه 62)