اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 191 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 191

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 191 ہم زید بن ثابت سے روایت درج کر آئے ہیں کہ قرآن مجید کی ترتیب زمانہ نبوی میں ہوئی، اسے ایک ہی جلد میں جمع کرنے کا کام حضرت ابو بکر کے زمانہ میں ہوا اور حضرت عثمان کے دور میں اسے متعدد نسخوں میں نقل کیا گیا۔البرهان في علوم القرآن جزء اول صفحه 235) اتقان میں علامہ سیوطی نے کثرت کے ساتھ ایسی روایات، احادیث اور آراء درج کی ہیں جن میں علما اور بزرگان کے اس عقیدہ کا اظہار موجود ہے کہ سورتوں کی ترتیب آیات کی ترتیب کی طرح توقیفی ہے یعنی الہی راہنمائی کے مطابق آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود لگوائی ہے۔علامہ سیوطی کا اپنا رجحان بھی اسی طرف ہے کہ سورتوں کی دائمی ترتیب تو قیفی ہے۔(الاتقان جز اول ؛ النوع الثامن عاشر؛ الفصل؛ جمعه ترتیبه صفحه 58) پس روایات اور احادیث کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ سورتوں کی معروف ترتیب تھی جو تو قیفی تھی اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں لگائی گئی تھی اور آپ نے امت کو سکھا دی تھی۔جبکہ دوسری جانب کہیں کوئی ایسی روایت تو نہیں ملتی جس میں خصوصیت سے یہ ذکر ہو کہ سورتوں کی کوئی خاص ترتیب نہیں تھی نہ ہی کوئی ایسی روایت ملتی ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سورتوں کی ترتیب لگانے کے ضمن میں صحابہ کو کوئی نصیحت فرمائی ہو۔جبکہ بہت سی ایسی روایات ملتی ہیں کہ کئی سورتوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی ترتیب سے تلاوت کیا کرتے تھے جس ترتیب سے وہ آج بھی موجود ہیں۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں سورتوں کی کوئی نہ کوئی ترتیب ضرور تھی۔تمام سورتوں کی ترتیب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ کوئی ترتیب نہیں تھی۔اگر تمام سورتوں کی ترتیب کے بارہ میں روایات نہ بھی ملیں بلکہ چندسورتوں کے بارہ میں ہی ملیں ، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال جبرائیل کی معیت میں قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ نتیجہ نہ نکالا جائے کہ قرآن کریم کی سورتوں کی ایک خاص ترتیب تھی جس کے مطابق یہ دور ہوتا تھا اور جس کے مطابق صحابہ تلاوت کیا کرتے تھے اور نمازوں اور تراویح وغیرہ میں تلاوت ہوا کرتی تھی۔آیات کے بارہ میں بھی تو روایات میں اصولی طور پر یہ طریق بیان کر دیا گیا کہ رسول کریم نئی نازل ہونے والی ہر آیت کی مخصوص جگہ کی وضاحت فرماتے اور بتاتے کہ فلاں سورت میں جہاں فلاں مضمون بیان ہورہا ہے وہاں فلاں آیت سے قبل یا بعد میں یہ آیت لکھ دو۔ایسا نہیں ہے کہ آج تمام آیات کی ترتیب آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے۔راویوں نے سمجھانے کے لیے چند مثالیں محفوظ کرلیں ساری آیات کی ترتیب بیان نہیں کی۔اسی طرح ترتیب سور کے ضمن میں بھی راویوں نے چندسورتوں کی مثال پیش