اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 94
الذكر المحفوظ 94 کوشش کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کے دورِ خلافت میں بہت سے صحابہ کے باہمی مختلف نسخے موجود تھے لیکن یہ جھوٹ ہے۔اس بارہ میں تفصیل سے بات آئندہ سطور میں اپنے موقع پر ہوگی۔یہاں اتنا کہنا کافی ہے کہ اگر مختلف نسخے ہوتے تو ضرور پیش کیے جاتے۔لیکن صحابہ کا مصحف اتم پر اجماع کرنا بتا تا ہے کہ کوئی حقیقی اختلاف نہیں تھا۔پھر یہ پہلو بھی مد نظر رہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد حالات بے حد مخدوش تھے اور مخالفت کا بازار بھی گرم تھا۔تمام دشمن چوکنے تھے کہ اب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات ہو چکی ہے لہذا اب شائد اس امت کو آسانی سے برباد کیا جا سکے۔اگر کوئی بھی ایسا قدم اُٹھایا جاتا جو حفاظت قرآن کے لحاظ سے کمزور ہوتا تو ضرور دشمنان اسلام شور کرتے۔لیکن اس شور و شر کے زمانہ میں ہر قسم کی احتیاط برتی گئی اور تمام را ہیں حفاظت کی اختیار کی گئیں تا کہ کسی دیانت دار محقق کو شبہ اور شکایت کا ادنی سا موقعہ بھی نہ ملے۔اس ضمن میں ایک یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ روایات میں یہ ذکر ملتا ہے کہ سورۃ الاحزاب یا سورۃ التوبہ کی آخری آیت صرف حضرت ابوخزیمہ لائے اور کوئی صحابی نہیں لائے۔اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ یہ آیات اور کہیں لکھی ہوئی موجود نہیں تھیں۔قرآن کریم رسول کریم کے زیر نگرانی تحریری صورت میں جمع کیا جاچکا تھا۔پس جب یہ کہا جائے کہ صرف فلاں صحابی کوئی آیت لایا تو اس سے مراد ہے کہ اُن صحابہ کے علاوہ، جن کے سپرد آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں جمع قرآن اور کتابت قرآن کا کام تھا، باقی صحابہ میں سے صرف ایک صحابی ایسے تھے جنہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف سے تصدیق محمدہ آیت اپنے پاس تحریری صورت میں محفوظ کی ہوئی تھی۔غیر تصدیق شدہ جانے کتنے نسخے تھے جن میں یہ آیت درج تھی۔علامہ سیوطی نے اتقان میں اور مولوی صدیق حسن صاحب نے تاریخ القرآن میں یہی رائے درج کی ہے۔بہر حال اگر کسی کی رائے اس رائے کے مؤید نہ بھی ہوتی تو بھی تاریخی حقائق کی روشنی میں یہی بات درست قرار پاتی ہے۔کسی حافظ قرآن کا بھی اس آیت سے کوئی اختلاف نہیں تھا اور نہ ہی کاتبین وحی میں سے کسی نے اختلاف کیا۔گویا ان کا تبین کو بھی جنہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زیر نگرانی قرآن تحریر کیا تھا اور حفاظ کو بھی اس آیت کے بارہ میں کوئی شبہ نہیں تھا۔صرف ایک یہی آیت تھی جس کی مستند تحریر کاتبین وحی کے علاوہ صرف ایک صحابی کے پاس تھی۔اس آیت کے بارہ میں کوئی بے چینی پیدا ہوئی ہوتی تو ضرور اس کا ذکر ملتا اور لطف کی بات یہ کہ ان صحابی کی گواہی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دو صحابہ کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔نیز یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ باوجود اس کے کہ اس آیت میں کوئی اختلاف نہیں تھا مگر پھر بھی تاریخ میں اس کا ذکر محفوظ کیا گیا اس سے یہ امر مزید واضح ہوتا ہے کہ اگر کوئی ایسی آیت ہوتی جس میں حقیقی طور پر اختلاف پایا جاتا تو کیسے ممکن ہے کہ ذکر نہ کیا جاتا۔پھر یہ روایت اس حقیقت کا ایک اور بڑا لطیف ثبوت ہے کہ صحابہ کے پاس کثرت سے قرآن کریم کے مستند مسودات