انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 635 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 635

۶۳۵ (۳) تیسری اصلاح جس کی اس قانون میں ضرورت ہے یہ ہے کہ جوابی کتاب لکھنے والے پر اس وقت تک مقدمہ نہ چلایا جائے جب تک کہ اصل کتاب والے پر بشرطیکہ اس نے گندہ ذہنی سے کام لیا ہو مقدمہ نہ چلایا جائے۔اس وقت یہ ہو رہا ہے کہ ایک شخص پر گورنمنٹ مقدمہ چلا دیتی ہے حالانکہ اس نے ایک نہایت گندی کتب کا جواب لکھا ہوتا ہے۔اس کو چھوڑ دیتی ہے جس نے حملہ میں ابتداء کی ہوتی ہے مگر شرط یہ ہونی چاہئے کہ دوسری کتاب پہلی کتاب کا حقیقی جواب ہونہ کہ نئی مستقل کتاب۔(۴) چوتھا نقص اس قانون میں یہ ہے کہ یہ قانون صوبہ دار ہے۔ایک صوبہ کا اثر دوسرے پر نہیں پڑتا۔مثلا ً ور تمان جسے گورنمنٹ نے ضبط کیا ہے اس کی ضبطی صرف پنجاب سرحد اور یوپی میں ہوئی ہے۔اگر ہندو اسے بنگال، بمبئی، مدراس، بہار وغیرہ میں شائع کرتے رہیں تو اس میں ان پر کوئی جُرم عائد نہیں ہوتا۔حالانکہ سارا ہندوستان ایک ہے۔ایک جگہ کی کتاب کا بد اثر سارے ملک پر پڑتا ہے۔پس قانون یہ ہونا چاہئے کہ جب ایک گندی کتاب کو ایک صوبہ کی گورنمنٹ ضبط کرے تو سب صوبوں کی حکومتیں قانوناً مجبور ہوں کہ وہ اپنے صوبوں میں بھی اس کتاب کا چھپنایا شائع ہونا بند کر دیں۔یا اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ اس قانون پر عملدر آمد گورنمنٹ آف انڈیا کے اختیار میں ہو جو کسی صوبے کی گورنمنٹ کے توجہ دلانے پر ایک عام حکم جاری کر دے جس کاسب صوبوں پر اثر ہو۔ورنہ موجودہ قانون کی رو سے اس قسم کی شرانگیز کتابیں یکے بعد دیگرے مختلف صوبوں میں چھپ کر شائع ہو سکتی ہیں۔اور جب تک کہ سب صوبوں میں ان کا چھپنا بند ہو اس وقت تک ملک میں خون کا دریا بہہ سکتا ہے۔چنانچہ اس وقت بھی ملک کے قانون کے لحاظ سے راجپال کی کتاب بنگال، بمبئی، مدراس اور برہما میں چھاپ کر شائع کی جاسکتی ہے اور یہ بات قانون کے خطرناک نقص پر دلالت کرتی ہے۔غرض موجودہ قانون میں یہ نقص ہیں جن کا ازالہ ضروری ہے۔اور جب تک ان کا ازالہ نہ ہو گا نہ بزرگانِ دین کی عزتوں کی حفاظت ہو سکے گی اور نہ ملک میں امن قائم ہو گا۔پس چاہئے کہ ہندوستان کے تمام شہروں سے مشترکہ جلسے کر کے مندرجہ بالا نقصوں کی طرف اپنی اپنی گورنمنٹوں کی معرفت ہندوستان کی حکومت کو توجہ دلائی جائے تا ایسا نہ ہو کہ ور تمان کے فیصلے سے مطمئن ہو کر گورنمنٹ قانون میں اصلاح کا خیال چھوڑ دے۔یا ایسی اصلاح کرے جو ہماری ضرورتوں کو پورا