انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 634 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 634

۶۳۴ ان حملوں کی وجہ سے فساد نہیں پڑ سکتا تھا۔یا یہ کہ دو قوموں میں فساد نہیں پڑ سکتا تھا تو پھر خواہ کیسی ہی گندی کتاب لکھی گئی ہو۔اس کے لکھنے والے پر کوئی گرفت نہیں ہو سکے گی۔پس قانون میں ایک ایسی دفعہ زیادہ ہونی چاہئے جس کی رو سے ہر وہ شخص جو خدا تعالی کی یا کسی مذہب کے بانی کی یا نبی کی ہتک کرے یا اس پر تمسخر اڑائے خواہ فساد کا احتمال ہو یا نہ ہو اسے سزا دی جا سکے۔کیونکہ اگر فساد کے احتمال پر سزا کی بنیاد رکھی گئی قو میں اپنے بانیوں اور بزرگوں کی ہتک کرنے والوں کو سزا دلوانے کے لئے فساد کے آثار پیدا کرنے پر مجبور ہوں گی۔اور یہ ناقص قانون بجاۓ امن پیدا کرنے کے فساد پیدا کرنے کا موجب ہوتا رہے گا۔اور اس کا نتیجہ یہ بھی ہو گا کہ جو قومیں اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق فسادسے احتراز کریں گی ان کے بزرگوں کی ہتک سے روکنے کے لئے کوئی قانون ہی نہ ہو گا اور یہ سخت ظلم کی بات ہوگی۔(۲) دوسرا نقص اس قانون میں یہ ہے کہ اس قانون کے ماتحت صرف گورنمنٹ ہی مقدمہ چلا سکتی ہے اور اس وجہ سے کسی ایسی کتب یا رسالے جن میں گندے سے گندے حملے بزرگان ِ دین پر کئے جاتے ہیں ان پر کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا اور اس کے نتیجہ سے فساو بڑھتا ہے۔اگر ایسارسالہ ہندوؤں نے لکھا ہوتا ہے اور گورنمنٹ اس پر مقدمہ نہیں چلاتی تو مسلمانوں کا غصہ بڑھتا ہے۔اور اگر مسلمانوں کی طرف سے ایسا رسالہ شائع ہوا ہے اور اس پر تو نہیں لیا جاتا تو ہندووں کا غصہ بڑھتا ہے۔اور اس وجہ سے فساد کے مٹنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔پس ضروری ہے کہ اس قانون کی اصلاح اس طرح کی جائے کہ علاوہ گورنمنٹ کے اس بزرگ کے پیرو بھی جس کی ہتک کی گئی ہو اس ہتک کرنے والے پر نالش کر سکیں اور اسے سزا دلوا سکیں۔راجپال کے مقدمہ میں گورنمنٹ کے خلاف مسلمانوں کے جوش کی بڑی وجہ یہی تھی کہ پریوی کونسل میں کیوں اپیل نہیں کی جاتی۔اگر خود مقدمہ چلانے کی اجازت ہوتی تو مسلمان خود اس کام کو کر سکتے تھے اور گورنمنٹ کے خلاف کوئی جوش نہ پیدا ہوتا۔پس قانون کی یہ اصلاح ضروری ہے کہ بزرگان دین کے پیروؤں کو بھی ان کی ہتک کرنے والوں پر نالش کرنے کی اجازت ہے۔تاکہ اگر گورنمنٹ کسی پر مقدمہ چلانا مناسب نہ سمجھے تو بجائے ایجی ٹیشن کے لوگ خود مقدمہ چلا کر شریر کو اس کے کردار کی سزا دلا سکیں۔جب تک یہ اصلاح نہ ہوگی گورنمنٹ پر رعایا کے مختلف حصے خواہ مخواہ ناراض رہیں گے اور اسے کبھی امن حاصل نہیں ہو گا۔بے شک اس تبدیلی قانون میں بعض نقائص بھی ہیں لیکن ان کا علاج ہو سکتا ہے جیسا کہ میں نے اپنے خط بنام وائسرائے میں ثابت کیا ہے۔