انوارالعلوم (جلد 9) — Page 596
۵۹۶ نہ ہوگی کہ ایسے جلسے پہلے مقرر ہو چکے ہیں۔ورنہ وہ اس زمانہ میں جب کہ مسلمانوں میں پورے اتحاد کی ضرورت ہے بائیس جولائی کو الگ جلسے مقرر نہ کرتے مگر اب جب کہ ان کی طرف سے اعلان ہو چکا ہے، میں مسلمانوں کے فوائد کو مد نظر رکھتے ہوئے ان سے خواہش کرتا ہوں کہ چونکہ ہماری طرف سے ایک ماہ سے اعلان ہو رہا تھا اور تیاری مکمل ہو چکی ہے اور متواتر اخباروں اور پوسٹروں کے ذریعہ سے تحریک ہوتی رہی ہے اور بعض اہم مقامات کی طرف واعظ بھی بھیجے جا چکے ہیں اور ہزاروں روپیہ کا خرچ برداشت کیا جا چکا ہے ، اس لئے خلافت کمیٹی مہربانی فرما کر اپنے جلسوں کو یا تو کسی دوسرے دن پر ملتوی کر دے یا کم سے کم وقت ہی بدلا دے۔مثلاً یہ کہ جن جلسوں کا انتظام ہم نے کیا ہے ، وہ جمعہ اور عصر کے درمیان ہو نگے تو وہ بعد از مغرب اپنے جلسے مقرر کر دے۔اگر اس قدر خرچ اور محنت سے اور نیز سب فرقوں کے سر بر آوردہ لوگوں کے مشورہ کے ساتھ جلسوں کا انتظام نہ ہو چکا ہوتا تو میں خود ہی جلسہ کی تاریخیں بدل دیا۔کیونکہ وقت اور دن کی نسبت اتحاد بہت زیادہ اہم شئے ہے۔لیکن ایک ماہ کی مسلسل تیاری کے بعد ہمارے لئے اس قدر مجبوریاں ہیں کہ ہمارے لئے دن اور وقت کا بدلنا بہت مشکل ہے۔خصوصاً اس لئے کہ جو جلسے بائیس کو ہماری تحریک پر مقرر ہوئے ہیں وہ صرف ہماری جماعت کی طرف سے نہیں ہیں بلکہ شیعہ ،سنی ،اہل حدیث، حنفی، احمدی سب کی طرف سے مشترکہ جلسے ہیں۔دو مختلف تاریخوں میں جلسے ہوں بائیس تاریخ کوئی مذہبی تاریخ نہیں کہ اس سے جلسے اِدھر اُدھر نہ کئے جا سکتے ہوں۔اس لئے بجائے اس کے کہ طاقت کو منتشر کیا جائے اور دشمنوں کو ہنسی کا موقع دیا جائے ، کیوں نہ دو مختلف تاریخوں میں جلسے ہوں اور طاقت کو پراگندہ ہونے سے محفوظ رکھا جائے۔اگر ایک ہی وقت میں مسلمانوں کی کچھ جماعت ایک طرف اور کچھ دوسری طرف جاتی ہوئی نظر آئی تو ہندو لوگ کہیں گے کہ رسول کریم ﷺ کی حفاظت کے معاملہ میں بھی یہ لوگ ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔اور اس سے اسلام کی عزت کو جو صدمہ پہنچے گا اس کا اندازہ ہر اک اسلام کا درد رکھنے والا انسان خود ہی لگا سکتا ہے۔ہندوؤں کو جو دلیری اور جرأت اس سے حاصل ہوگی ،اس کا خیال کر کے میرا دل کانپ جاتا ہے اور میری روح لرز جاتی ہے۔